برداشت کی ضرورت
عدم برداشت کا نتیجہ تشدّدہے۔اوربرداشت کانتیجہ امن۔انہی دولفظوں میں امن اور تشدّد کا خلاصہ پایا جاتا ہے۔ جس سماج میں برداشت کی صفت ہو، اس سماج میں امن کا ماحول رہےگا۔ اور جس سماج کے لوگوں میں برداشت کامزاج نہ ہو وہاں تشدّد ہونے لگے گا۔ اورتشدّد،نہ تشدّدکرنےوالےکےلیے مفیدہےاورنہ ان لوگوں کےلیے مفیدجن کے اوپر تشدّد کیا گیاہے۔
برداشت ایک اعلیٰ اخلاقی اور انسانی صفت ہے۔ اس کے مقابلے میں برداشت نہ کرنا ایک حیوانی صفت ہے۔ برداشت مجبوری نہیں،برداشت ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ لوگ جس مقصدکوبےبرداشت طورپرحاصل کرناچاہتےہیں،اس کوبرداشت کے ذریعہ زیادہ بہترطورپرحاصل کیاجاسکتاہے۔
کوئی ناخوش گوار صورت حال پیش آنےپرآدمی جب بےبرداشت ہوجائےتووہ اپنے آپ کو مقابلہ کے لیے کمزور کرلے گا۔ لیکن جب وہ ناخوش گوار صورت حال میں برداشت کے رویہ پرقائم رہے تو وہ اپنی ساری طاقتوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ زیادہ مؤثر طور پر پیش آمدہ صورت حال کامقابلہ کرسکتا ہے۔
ناخوش گوارصورت حال پیش آنےکےباوجودبےبرداشت نہ ہونااس بات کاثبوت ہے کہ آدمی اپنےآپ پر کنٹرول کرنےکی طاقت رکھتاہے۔اورجس آدمی کےاندریہ طاقت ہو کہ وہ اپنےآپ پرکنٹرول کرسکے،وہ اتنازیادہ طاقتورہوجاتا ہےکہ کسی کےلیے بھی اس کو شکست دیناممکن نہیں۔
