معیارکافرق
ایک صاحب نے میری تحریروں پرتبصرہ کرتےہوئےکہاکہ میں نےآپ کی کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر آپ کی تحریروں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اسکی کوئی مثال دیجیے۔انہوں نےکہاکہ آپ نےایک طرف سیداحمدشہیداورسیداسماعیل شہید کے بارے میں لکھاہےکہ وہ لوگ بلاشبہ مخلص تھے۔مگراسی کےساتھ آپ یہ لکھتےہیں کہ 1831ء میں انہوں نے پنجاب میں جوجہادکیاوہ ایک غیردانش مندانہ اقدام تھا۔ایک طرف آپ شہیدین کی تعریف کرتےہیں اوردوسری طرف آپ ان کی تنقید کرتے ہیں۔ کیا یہ تضادنہیں۔
میں نےکہاکہ یہ تضادکی بات نہیں ہےبلکہ یہ فکری معیارکےفرق کی بات ہے۔آپ لوگوں کا فکری معیاریہ ہےکہ آپ جن افرادکواکابرکادرجہ دےدیں،ان کےبارےمیں آپ شعوری یا غیرشعوری طورپریہ سمجھتےہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے،انہوں نےجوکچھ کہایاکیاوہ سب درست تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ کےمزعومہ اکابرکےبارےمیں اگرکوئی جزئی تنقید بھی کی جائےتوآپ لوگ بھڑک اٹھتےہیں۔ اپنے معیارکےمطابق،آپ اپنے اکابرکوصرف قابل تعریف سمجھتےہیں، قابل تنقیدنہیں۔
اس کے مقابلے میں دوسرا معیار وہ ہے جس کو علمی معیار کہا جاتا ہے۔ علمی معیار پراسرار شخصی تقدس پرقائم نہیں ہوتا،وہ معلوم اورثابت شدہ حقائق پرمبنی ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ علمی معیارمیں تحلیل اورتجزيہ کاطریقہ رائج ہے۔علمی معیار کےمطابق،داخلی نیت ایک الگ چیز ہے اور خارجی عمل اس سے مختلف دوسری چیز۔ یہ علمی معیار شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسی بنا پر حدیث میں آیا ہے کہ اگر آدمی کی نیت درست ہو تو اجتہادی خطاء پر بھی اس کو ایک درجہ کا ثواب ملےگا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352)۔
میراطریقہ یہی علمی معیاروالاطریقہ ہے۔میں شخصی تقدس کے نظریہ کودرست نہیں سمجھتا۔ میں شخصیتوں کاتجزیہ خالص حقائق کی روشنی میں کرتاہوں۔اس تجزیاتی طریق مطالعہ نے مجھے بتایا کہ سیداحمدشہیداورسیداسماعیل شہیدبلاشبہ مخلص لوگ تھے۔ مگر1831ءمیں انہوں نے پنجاب کےمہاراجہ رنجیت سنگھ کےخلاف جومسلح جہاد کیا، اس میں بیک وقت دو کمیاں شامل تھیں— ناقص تیاری اورحالات سےبےخبری۔
سید اسماعیل شہیدکےبارےمیں کہاجاتاہےکہ جب جہادکافیصلہ ہواتوانہوں نے جہاد کی تیاری شروع کردی۔اس وقت وہ دہلی میں تھے۔گرمی کےزمانہ میں وہ دہلی کی جامع مسجد کے پتھر کے فرش پرننگے پاؤں چلتے تھے۔ اس کو وہ جہاد کی تیاری سمجھتے تھے۔ ان کایہ عمل ان کےقلبی اخلاص کاثبوت توضرورہوسکتاہےمگراس کاکوئی تعلق مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اعلیٰ تربیت یافتہ فوج کےخلاف جنگ کی تیاری سےنہیں۔کیوں کہ اس جنگ میں جو چیز فیصلہ کن بننےوالی تھی وہ فوجی طاقت تھی،نہ کہ ننگےپاؤں گرم پتھرپرچلنےکی مشق۔
انہی کمیوں کانتیجہ تھاکہ ان کایہ مسلح جہاد صرف یک طرفہ تباہی پرختم ہوا۔کسی شخص کی نیت خواہ کتناہی زیادہ درست ہو، لیکن اگروہ پتھر کو توڑنے کےلیے اپناسراس سے ٹکرانے لگے تویقینی طورپرحسن نیت کےباوجوداس کاسرٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ پتھر کو ہتھوڑے سےتوڑاجاسکتاہےمگرسرسےنہیں۔
