احساس نصح کا فقدان

مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی ایک کتاب سیرت کے موضوع پر ہے۔ اس کا نام سیرۃ المصطفی ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی کے ’’کلمات بابرکات‘‘  بطور تصدیق شامل ہیں۔ یہ کتاب دوسری بار1980 میں دیوبند سے شایع ہوئی ہے۔

مصنف نے ایک مقام پر ان لوگوں کا جواب دیا ہے جو اسلام میں قتال کو دفاعی سمجھتے ہیں۔ مصنف کا خیال ہے کہ قتال(یا جہاد فی سبیل اللہ) ایک ہجومی اور اقدامی فعل ہے۔ وہ  ’’قانونِ خداوندی کو علی الاعلان جاری کرنے کے لیے‘‘ کیا جاتا ہے ، نہ کہ محض دشمنوں کے مقابلے میں اپنی حفاظت اور مدافعت کے لیے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’کیا خلفاء راشدین کے تمام جہادات دفاع تھے۔ کوئی جہاد ان میں سے اقدامی نہ تھا۔ اور کیا سلاطینِ اسلام کے ہندستان پر حملے بھی اقدامی نہ تھے۔ ایک ہزار سال قبل کیا کسی لالہ رام اور دھوتی پرشاد کی مجال تھی کہ وہ کسی اسلامی حکومت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کا تصور بھی کر سکے اور شاہان اسلام ان کی مدافعت کے لیے اٹھیں۔‘‘( صفحہ10)

اس عبارت میں’’لالہ رام اور دھوتی پرشاد‘‘ کا جو انداز ہے، وہ بتا رہا ہے کہ مصنف کے دل میں غیر قوم کے لیے کس قدر تحقیری اور غیر ہمدردانہ جذبہ بھرا ہوا ہے۔ یہی موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ اقوام غیر کے لیے ان کے سینے میں نفرت اور تحقیر کے سوا اور کچھ نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی تمام تقریروں اور تحریروں میں یہ جذبات دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانےکے مسلمانوں نے دوسری قوموں کے لیے نصح اور خیر خواہی کا جذبہ کھو دیا ہے۔ یہ احساس اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید اس میں کوئی استثناء نہیں۔

اقوامِ غیر کے لیے اس غیر ہمدردانہ نفسیات کی موجودگی میں یہ ناممکن ہے کہ ان کے لیے مسلمانوں میں کسی حقیقی دعوتی عمل کا ظہور ہو سکے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion