اسلامی دعوت
آگ کا انگارہ جب خارج کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے تو اسی کو ہم آنچ کہتے ہیں۔ برف کا تو دہ جب اپنے ماحول کو اپنی حقیقت سے متعارف کرتا ہے تو اسی کو ٹھنڈک کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا بھی ہے۔ زمین پر کسی مومن کا وجود میں آنا خود ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلامی دعوت ضرور وجود میں آئے گی۔ کسی نفس انسانی میں جب وہ خدائی بھونچال آتا ہے جس کو اسلام کہا گیا ہے تو اس کے بعد لازمی نتیجے کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے باہر کی دنیا اس سے باخبر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی اسلامی دعوت کا آغاز ہے۔
اسلامی دعوت فرد انسانی میں انقلاب لانے کی دعوت ہے ، نہ کہ کسی قسم کے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ میں اکھیڑ پچھاڑ کرنے کی۔ اسلامی انقلاب اصلاً ایک نفسیاتی انقلاب ہے اور نفسیاتی انقلاب کسی نفس ہی کے اندر وقوع میں آ سکتا ہے۔ نفس کا وجود صرف ایک فرد میں ہوتا ہے اس لیے اسلام کی گھٹنا بھی ایک فرد ہی میں گھٹتی ہے۔ قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کا اپنا کوئی نفسیاتی وجود نہیں۔ اس لیے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنانا ایسا ہی ہے جیسے خالی فضا میں تیر مارنا۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی گروہ کے قومی حالات یا کسی جغرافیہ کے تمدنی احوال لوگوں میں ہلچل پیدا کرتے ہیں اور اس کے بعد ان کے درمیان ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کے اندر ان کے قومی یا سیاسی حالات کے نتیجے میں کوئی حرکت اٹھ کھڑی ہو تو اس کا نام اسلامی تحریک نہیں ہو جائے گا۔ اگر مسلمان اپنے قومی دشمن سے تصادم کو جہاد کہیں یا اپنی قومی تعمیر کو اسلامی نظام کی اصطلاحوں میں بیان کریں تو یہ اسلام نہیں بلکہ غیر اسلام کو اسلام کا نام دینا ہے، جو آدمی کو صرف سزا کا مستحق بناتا ہے، نہ یہ کہ اس کی بنا پر آدمی کو کوئی اسلامی انعام دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اس قسم کی اسلامی تحریکیں عظیم الشان پیمانے پر اٹھیں مگر عملاًوہ اس طرح بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں جیسے خدا کے نزدیک ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کے سب قومی ہنگامے ہیں اور کسی قوم کے قومی ہنگاموں کا نام اسلام نہیں۔ اسلامی دعوت کی تحریک ایک لفظ میں جنت کی طرف بلانے کی تحریک ہے۔ جنت خدا کی لطیف و نفیس دنیا ہے جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اخلاق خدا وندی کی سطح پر جئے ہوں، جنہوں نے دنیوی تعلقات میں کمال انسانیت کا ثبوت دیا ہو، جو خدا کی ابدی دنیا سے اثر لے کر متحرک ہوئے ہوں ، نہ کہ سیاسی اور معاشی حالات کے اثر سے۔ آج کی دنیا میں اسی کا چناؤ ہو رہا ہے۔ جو لوگ اپنی نفسیات اور کردار کے اعتبار سے جنتی ماحول میں بسانے کے قابل ٹھہریں گے ان کو چھانٹ کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ تمام لوگ خدا کی رحمتوں سے محروم کرکے دور پھینک دیے جائیں گے تاکہ ابدی طور پر تاریکیوں کے غار میں بھٹکتے رہیں۔
انسان کے سوا بقیہ دنیا بے حد حسین ہے۔ ہرے بھرے درختوں اور نرم و نازک پھولوں کو دیکھیے ، زمین و آسمان کے قدرتی مناظر کا معائنہ کیجیے ۔ ان کی بے پناہ کشش آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے گی کہ ان سے نظر ہٹانے کا جی نہ چاہے گا۔ مگر اس کے مقابلہ میں انسانی دنیا ظلم اور گندگی کا کوڑا خانہ بنی ہوئی ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ دنیا کی سطح پر خدا کی مرضی براہ راست اپنی پوری شکل میں نافذ ہے، یہ دنیا ویسی ہی ہے جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ ہو۔ اس کے برعکس، انسان کو خدا نے آزادی دے دی ہے۔ اسی آزادی کے غلط استعمال نے انسانی دنیا کو جہنم کدہ بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام خوبیوں کا مالک صرف خدا ہے۔ خدا جہاں اپنے اختیار کو روک لے وہیں سے جہنم شروع ہو جاتی ہے اور خدا جب اپنے اختیار کو نافذ کر دے تو اسی کا نام جنت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ خدا نے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا کہ انسان کو آزادی دے دی کہ وہ خدا کی حسین دنیا کو اپنی باغیانہ کارروائیوں سے عذاب خانہ بنا دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر وہ قیمتی انسان چنے نہیں جا سکتے تھے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ خدا کی وسیع دنیا اپنی ان گنت چیزوں کے ساتھ مکمل طور پر خدا کی اطاعت گزار ہے۔ حقیر چیونٹی سے لے کرعظیم کہکشانی نظاموں تک کوئی چیز بھی نہیں جو خدا کی مرضی سے ادنیٰ انحراف کرتی ہو۔ تاہم یہ تمام چیزیں اس لیے محکوم ہیں کہ وہ بے اختیار ہیں۔ فرماں برداری کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اب خدا کو ایسی باشعور اور حقیقت پسند مخلوق درکار تھی جو اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہو جائے۔ جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو خدا کا محکوم بنا لے۔ یہی وہ انتہائی نادر ہستیاں ہیں جن کو چھانٹنے کے لیے خدا کا یہ عظیم کارخانہ آباد کیا گیا ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے لے کر آج تک انسانی ذہن کو جو چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی رہی ہے وہ انسان کی دنیا میں خرابی کا مسئلہ (problem of evil) ہے۔ ایک مفکر کے الفاظ میں ساری انسانی تاریخ ظلم اور برائی کا رجسٹر معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنی آزادی کا انتہائی ظالمانہ استعمال کرتا ہے۔ مگر اتنی بڑی برائی کو خدا نے صرف اس لیے گوارا کیا کہ اس کے بغیر اس اعلیٰ نوع کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا تھا جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ اختیار اور آزادی کے ماحول ہی میں وہ انسان چنے جا سکتے ہیں جن کے متعلق خدا کے نگراں فرشتے یہ گواہی دیں کہ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے مکمل اختیار رکھتے ہوئے اپنے کو خدا کی خاطر بے اختیار کر لیا تھا۔ دنیا کی بے پناہ برائیاں دراصل ایک بے پناہ بھلائی کی قیمت ہیں۔ یہ بھلائی کہ انسانوں کے جنگل سے وہ سعید روحیں چھان کر نکالی جائیں جو پورے شعور اور مکمل ارادے کے ساتھ اپنے کو خدا کا محکوم بنالیں۔ جو محض حقیقت پسندی کی بنا پر خدا کی محکومی اختیار کریں ، نہ کہ مجبوری کی بنا پر۔
یہ وہ انوکھی ہستیاں ہیں جن کو یہ موقع تھا کہ وہ حق کو جھٹلا دیں مگر انہوں نے حق کو نہیں جھٹلایا۔ جن کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی انا کا جھنڈا اونچا کریں۔ مگر وہ اپنے کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خدا کو صدر نشین بنانے پر راضی ہوگئے۔ جن کو پوری طرح یہ آزادی ملی ہوئی تھی کہ وہ اپنی قیادت اور اپنے مفادات کا گنبد کھڑا کریں مگر انہوں نے ہر’’اپنے‘‘ کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈھا دیا اور صرف حق کا گنبد کھڑا کرکے انہوں نے خوشی حاصل کی۔ اس قسم کی نادر روحیں اس کے بغیر چنی نہیں جا سکتی تھیں کہ ان کو مکمل آزادی کے ماحول میں رکھا جائے اور آزادی کا حقیقی ماحول قائم کرنے کی ہر قیمت برداشت کی جائے۔ اسلامی دعوت کا مقصد ایسی ہی روحوں کو تلاش کرنا ہے۔
