خود شکن بنیے
سبکتگین ایک ترکی غلام تھا، سامانی(ایرانی) حکمرانوں نے اس کو غزنہ(افغانستان) کا گورنر بنایا۔ بعد کو حالات سے فائدہ اٹھا کر اس علاقہ میں اس نے اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ وہ977ء سے لے کر997ء تک اس غزنوی سلطنت کا حکمراں رہا۔
سبکتگین کے بعد اس کا لڑکا اس سلطنت کا حکمراں بنا جو محمود غزنوی (1030-971) کے نام سے مشہور ہے۔ اس نے 1024ء میں پہلی بار سومناتھ (گجرات) پر حملہ کیا۔ اس نے سنا تھا کہ یہاں شیو کا مندر ہے اور اس کے اندر بڑی مقدار میں سونا موجود ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ مندر کو توڑ کر اس کا سونا حاصل کر لے۔
اس سے پہلے1001ء میں محمود غزنوی نے پشاور کے قریب راجہ جیپال کا مقابلہ کیا تھا۔ اس وقت محمود غزنوی کے پاس صرف پندرہ ہزار فوجی تھے۔ اس کے مقابلہ میں راجہ جیپال کے فوجیو ں کی تعداد بہت زیادہ تھی، حتٰی کہ اس کے پاس300 ہاتھی بھی تھے۔ مگر محمود غزنوی نے اس مقابلہ میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے اوپر اس کا ایک فوجی رعب قائم ہوگیا۔
چنانچہ محمود غزنوی جب اپنے لشکر کو لے کر سومناتھ پہنچا تو یہاں کے پنڈتوں نے اس سے مل کر یہ پیش کش کی کہ آپ ہمارے مندر کو نہ توڑیں۔ اس کے بدلے میں ہم آپ کو بڑی مقدار میں سونا، چاندی پیش کر دیں گے۔ محمود غزنوی نے ا س کے جواب میں کہا:من بت شکنم نہ بت فروش۔ یعنی میں بت کو توڑنے والا ہوںنہ کہ بت کو بیچنے والا۔
محمود غزنوی نے اپنے آپ کو اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے پیش کیا۔ مگر اس کے اس فعل کا کوئی تعلق اسلام سے نہ تھا۔ بت شکنی اسلام کا کوئی اصول نہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو خود شکن بناتا ہے، نہ کہ بت شکن۔ اور کسی مندر کا یا کسی بھی ادارہ کا خزانہ لوٹتا تو اس سے بھی زیادہ برا ہے، کیوں کہ وہ سراسر حرام ہے۔
خود شکنبننا یہ ہے کہ آدمی خواہش کے پیچھے نہ چلے بلکہ اصول حق کا اتباع کرے ۔ وہ کبر کی نفسیات سے اوپر اٹھے اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ ذاتی مفاد کے بجائے انصاف کو اہمیت دے۔ وہ خود پرست کے بجائے خدا پرست بن جائے۔
