کیسا عجیب
گاندھی جی کی مشہور شاگرد میرا بہن (1982-1892) ایک انگریز خاتون تھیں، جن کا اصل خاندانی نام میڈیلین سلیڈ (Madeleine Slade) تھا۔ وہ سرایڈمنڈ سلیڈ کی لڑکی تھیں۔ ان کو اپنے لیے ایک ’’زندہ خدا‘‘ کی تلاش تھی۔ ابتداء ًانہوں نے مشہور موسیقار بیتھوون میں اپنی اس تلاش کا جواب پایا۔ تاہم ان کی فطرت اس پر پوری طرح مطمئن نہ تھی۔ اس کے بعد ان کی ملاقات مشہور فرانسیسی مفکر رولینڈرولاں سے ہوئی۔ رولینڈرولاں گاندھی جی سے بہت متاثر تھا۔ اس نے مس سلیڈ سے کہا: ’’کیا تم نے گاندھی جی کے بارے میں نہیں سنا‘‘۔ مس سلیڈ نے کہا۔ ’’نہیں‘‘ رولینڈرولاں نے کہا’’وہ دوسرے مسیح ہیں‘‘۔
He is another Christ
اس کے بعد مس سلیڈ نے مہاتما گاندھی کا مطالعہ شروع کیا اور ان کی اتنی گرویدہ ہوئیں کہ اپنا وطن چھوڑ کر مستقل طور پر ہندستان آنے کے لیے تیار ہوگئیں۔
یہ1924 کا واقعہ ہے۔ مس سلیڈ نے سمندری جہاز پر اپنے لیے ایک برتھ رزرو کی تاکہ وہ جلد سے جلد ہندستان پہنچ سکیں۔ اس کے بعد اچانک انہیں خیال آیا کہ میں گاندھی جی کے ملک میں جا رہی ہوں مگر میں گاندھی جی کے ملک کی زبان نہیں جانتی۔ انہوں نے ہندستان کی زبان کے بارے میں معلومات کیں تو انہیں بتایا گیا کہ ہندستان کی عام زبان اردو ہے۔ چنانچہ انہوں نے اردو زبان سیکھنے کے لیے اپنے سفر ہند کو ایک سال کے لیے ملتوی کر دیا۔ وہ اس سے پہلے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانیں جانتی تھیں، انہوں نے دوبارہ محنت کر کے اردو سیکھی اور پھر1925ء میں ہندستان آئیں۔
گیٹاسرینی(Gitta Sereny) نے میرا بہن (سابق مس میڈیلین سلیڈ) کے حالات لکھے ہیں(ٹائمس آف انڈیا5 دسمبر1982) انہوں نے مذکورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
In the fall of 1924, four months into her training included learning Urdu and converting to vegetarianism.
1924ء کی موسم خزاں کے چار مہینے مس سلیڈ کے لیے تربیتی مہینے تھے، ان میں اس نے اردو زبان سیکھی اور اپنے آپ کو سبزی خوری کا عادی بنایا — پچاس سال پہلے ملک کی عام زبان اردو تھی۔ یہ دین کی عمومی اشاعت کا بہت بڑا موقع تھا۔ مگر اس کو مسلمانوں لایعنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ نتیجہ یہ رہا کہ خدا نے یہ موقع ان سے چھین لیا۔ اب اردو کے ذریعہ یہاں نہ سیاست کا کام کیا جا سکتا ہے اور نہ اشاعت دین کا۔
