ایک اہم کتاب
مستشرقین کے جواب میں موجودہ زمانہ میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر ان کا اصل جواب یہ ہے کہ علوم اسلام پر ایسی اعلیٰ کتابیں تیار کی جائیں جو اپنی تحقیق اور معلومات کے اعتبار سے مستشرقین کی باتوں کا مثبت جواب بن جائیں۔ اس سلسلہ میں یہاں ہم عظیم ترکی عالم فواد سیزگین(Fuad Sezgin) کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے اس میدان میں انتہائی قابل قدر کام انجام دیا ہے۔
موصوف نے 25 سالہ مطالعہ کے بعد حسب ذیل کتاب جرمن زبان میں تیار کی ہے:
Geschichte des Arabischen, Schrifttums, Leiden, 1967
اس کتاب کا معیاری عربی ترجمہ دکتور محمودفہمی حجازی اور دکتور فہمی ابوالفضل نے کیا ہے۔ اس کا نام تاریخ التراث العربی ہے۔ وہ تین جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کو الھئیۃ المصریہ العامہ للکتاب، قاہرہ نے 1978 میں شائع کیا ہے۔ پہلی جلد تین حصوں پر مشتمل ہے اور اسی طرح دوسری جلد بھی:
المجلدالاول: علوم القرآن
علم الحدیث
التدوین التاریخی الی غایۃ سنۃ430 ہجریۃتقریباً
المجلدالثانی: الفقہ
العقائد
التصوف الی غایۃ سنة430 ہجریۃ تقریباً
کتاب کی تیسری جلد تاریخ شعر عربی سے متعلق ہے۔
ہر فصل کے شروع میں نہایت قیمتی مقدمہ ہے، جس میں خالص علمی اور تاریخی انداز میں متعلقہ فصل کا تعارف ہے۔ اس کے بعد صحابہ سے لے کر پانچویں صدی ہجری کے ابتدائی نصف تک ایک ایک اسلامی شخصیت کے حالات اور کارنامہ کا محققانہ تذکرہ ہے جو ان موضوعات پر مستند حوالہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ کتاب بلاشبہ اپنی قسم کی واحد کتاب ہے اور اس قابل ہے کہ تمام اسلامی اداروں کے کتب خانوں میں کتبِ حوالہ کی الماری میں موجود ہو۔ اس موضوع پر ماضی میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً ابن الندیم کی الفہرست (377) طاش کبری زادہ(م968ھ) کی مفتاح السعادۃ۔ حاجی خلیفہ(م1067ھ) کی کشف الظنون۔ اسماعیل البغدادی (م1339ھ) کی ہدیۃ العارفین۔
