دار العلوم دیوبند کا ایک واقعہ
5مارچ2000کو ہندوستانی وزیرخارجہ مسٹر جسونت سنگھ کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ میں آپ سے بات کرنا ہے۔ اس کے لیے میں وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری مسٹر وویک کاٹجو کو آپ کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد وہ5مارچ کی شام کو ہمارے دفتر میں آئے اور دیر تک گفتگو کی۔
مسٹر وویک کاٹجو نے کہا کہ ہائی جیکنگ کے معاملہ میں میں جسونت سنگھ کے ساتھ افغانستان (قندھار) گیا تھا۔ وہاں ہماری ملاقات افغانی نوجوانوں سے ہوئی۔ انہوں نے اپنے آپ کو دیوبندی بتایا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ لوگ برائے سیاحت ہندستان آنا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر ہم نے پوچھا کہ آپ ہندوستان میں کون سی جگہیں دیکھنا چاہیں گے۔ انہوں نے سب سے پہلے دیوبند کا نام لیا۔ مسٹر وویک کاٹجو نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طالبان تحریک اور ہائی جیکنگ کا تعلق کیا دیوبند کے مدرسہ سے ہے۔
میں نے کہا کہ ایسا ہرگزنہیں۔ ان لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم دیوبندی ہیں، صرف فقہی معنی میں ہے، اور اس معنی میں میں بھی دیوبندی ہوں۔ اس کا کوئی تعلق طالبان کی سیاسی تحریک سے نہیں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ افغانستان میں بڑے بڑے دینی مدرسے نہیں ہیں۔ چنانچہ آزادی سے پہلے افغانستان کے طلبہ دارالعلوم دیوبند میں آکر دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ آزادی کے بعد جب حالات بدل گئے تو دیوبند کے پڑھےہوئے علما نے بلوچستان میں افغانستانی سرحد کے قریب بہت سے مدرسے قائم کیے۔ یہ مدرسے نصاب کے اعتبار سے دیوبندی پیٹرن پر تھے۔ اس لیے ان مدرسوں کو بھی دیوبندی مدرسہ کہا جانے لگا۔ دیوبندی مدرسہ کا مطلب حنفی فقہ کی تعلیم کا مدرسہ ہے جیسا کہ دیوبند کا یہ مدرسہ ہے۔ میں نے کھل کر وضاحت کی کہ افغانی طالبان کا سیاسی نظریہ پاکستان کے سیاسی لیڈروں کا بنا ہوا ہے، نہ کہ دیوبندی مدرسہ کادیاہوا۔ مسٹر وویک کاٹجو میری باتوں کو سن کر مطمئن ہوگئےاور دیوبند کے بارے میں ان کے شبہات ختم ہوگئے۔ (ڈائری، 6مارچ2000)
