بیماری کی ابتداء
صفر کے آخری عشرے میںایک مرتبہ آپ رات کو اٹھے اور اپنے خادم کو جگایا اور کہا کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ اہل بقیع کے لیے استغفار کروں۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد طبیعت ناساز ہوگئی اورسر میں درد اور بخار کی شکایت پیدا ہوگئی۔ جب مرض کی شدت اور بڑھی تو ارشاد فرمایا کہ میرے سر پر سات مشکیں پانی کی ڈالو۔ چنانچہ حسب حکم آپ کے سر پر پانی کی مشکیں ڈالی گئیں۔اس سے جب آپ کوکچھ سکون ہوا تو آپ حضرت علی کے سہارے مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ یہ ظہر کی نماز تھی۔ بعدازاں آپ نے صحابہ کو خطاب کیا۔ یہ آپ کا آخری خطاب تھا۔
اس خطاب میں دیگر باتوں کے علاوہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ لعنت ہو اللہ کی یہود اور نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ اس سے مقصود اپنی امت کو تنبیہ کرنا تھا کہ وہ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنائے۔
