دو مثالیں

دمشق کی مسلم خلافت جس زمانہ میں ولید بن عبدالملک اموی کے ہاتھ میں تھی۔ خلیفہ کی طرف سے موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے حاکم تھے۔ اسپین میں مسلمانوں کا داخلہ انہیں موسیٰ بن نصیر کی ماتحتی میں انجام پایا۔ موسیٰ بن نصیر نے اولاً معلومات حاصل کرنے کے لیے سردار طریف کو500 آدمیوں کے ساتھ اسپین بھیجا۔ سردار طریف کی واپسی کے بعد طارق بن زیاد(ایک بربری غلام) کی سرداری میں سات ہزار کا لشکر روانہ کیا گیا۔ یہ لوگ مراکش کے ساحل سے کشتیوں پر روانہ ہوئے اور تقریباً دس میل کا سمندر سفر طے کر کے اسپین کے ساحل پر اتر گئے۔

طارق بن زیاد کو اسپین میں داخل ہوتے ہی ایک بڑی فوج سے سابقہ پیش آیا۔ طارق ابن زیاد کے ساتھ صرف سات ہزار آدمی تھے اور دوسری طرف ایک لاکھ کی فوج جو ہر لحاظ سے زیادہ مسلح اور زیادہ بہتر حالت میں تھی۔28 رمضان 92ھ (جولائی 711ء) کو دونوں فوجوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اس درمیان میں مزید5 ہزار فوج طارق کی مدد کے لیے مرکز سے آگئی۔ بارہ ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ عیسائیوں سے نہایت بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان کے اوپر فتح حاصل کی۔ اس طرح طارق ابن زیاد نے اسپین میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی۔

طارق بن زیاد نے فتح کی خبر اپنے امیر موسیٰ بن نصیر کے پاس روانہ کی۔ امیر موسیٰ بن نصیر نے اس کے جواب میں طارق بن زیاد کو لکھا کہ تم نے ملک کا جتنا حصہ فتح کیا ہے اسی پر قائم رہو اور اس سے آگے مت بڑھو۔ اس کے بعد موسیٰ بن نصیر18 ہزار فوج کے ساتھ اسپین کی طرف روانہ ہوئے۔

 امیر موسیٰ بن نصیر کا مذکورہ خط طارق بن زیاد کو ملا تو ان کی اور اس کے ساتھیوں کی رائے یہ ہوئی کہ اس وقت پیش قدمی سے رکنا درست نہیں ہے۔ ہم کو آگے بڑھ کر ملک کے بقیہ حصوں کو بھی فتح کرنا چاہیے، ورنہ عیسائی طاقتیں اکٹھا ہو کر ہمارے اوپر حملہ کر دیں گی اور ہمارے لیے موجودہ قبضہ کو باقی رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ طارق بن زیاد نے امیر کے مشورہ کے خلاف ا پنی پیش قدمی جاری رکھی اور قرطبہ اور طلیطلہ، وغیرہ علاقے فتح کر ڈالے۔

امیر موسیٰ جب اسپین پہونچے تو وہ یہ دیکھ کر سخت ناراض ہوگئے کہ طارق نے ان کے حکم کی پروا نہیں کی اور پیش قدمی جاری رکھی۔ امیر موسیٰ نے طارق کو اس حکم عدولی پر قید کر دیا۔ تاہم یہ صرف ایک ظاہری کارروائی تھی، جو انہوں نے اس لیے کی کہ دوسرے سرداروں کو یہ سبق ہو جائے کہ ماتحت کے لیے افسر کے حکم کی تعمیل کرنا ضروری ہے، وہ دل سے طارق کی بہادری اور حسن کارکردگی پر خوش تھے چنانچہ وقتی تنبیہ کے بعد امیر موسیٰ نے طارق کی اس طرح قدردانی کی کہ ان کو اسپین کی تمام افواج کا سپہ سالار بنا دیا۔

یہ صورت جو طارق بن زیاد کے ساتھ پیش آئی تھی۔ یہی جلد ہی بعد خود موسیٰ بن نصیر کے ساتھ بھی پیش آئی۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو جب موسیٰ بن نصیر کی فتوحات کا علم ہوا، اور یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ بن نصیر اسپین کو فتح کر کے فرانس میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو خلیفہ نے موسیٰ بن نصیر کو لکھا کہ تم یورپ میں مزید پیش قدمی نہ کرو اور بلاتاخیر دمشق واپس آ جاؤ۔ خلیفہ کے اس حکم کی تعمیل میں موسیٰ بن نصیر اندلس سے دمشق کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے اندلس کی حکومت اپنے لڑ کے عبدالعزیز کے سپرد کی اور کثیر مال غنیمت اور سونے چاندی کے ساتھ روانہ ہو کر مراکش اور مصر ہوتے ہوئے شام پہنچے۔

اتفاق سے اسی زمانہ میں خلیفہ ولید بن عبدالملک سخت بیمار ہوگیا، جو اس کے لیے مرض الموت ثابت ہوا۔ ولید بن عبدالملک کے بعد اس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ سلیمان کو جب یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ بن نصیر کثیر اموال کے ساتھ شام پہونچ گئے ہیں، تو اس نے موسیٰ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم ابھی باہر ر کے رہو، اور دمشق میں داخل ہونے میں جلدی نہ کرو۔ سلیمان بن عبدالملک کا منشایہ تھا کہ خلیفہ ولید کی وفات کے بعد امیر موسیٰ دمشق آئیں اور اسپین کا مال غنیمت میرے خلیفہ بننے کے بعد دربار میں لایا جائے۔ اس طرح میری تخت نشینی کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ مگر امیر موسیٰ سلیمان بن عبدالملک کے اس پیغام کی رعایت نہ کر سکے اور وہ تیزی سے سفر کر کے دمشق پہنچ گئے۔ امیر موسیٰ کے دربار میں حاضری کے صرف چند دن بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کی وفات ہوگئی اور 16جمادی الثانی96ء کو سلیمان بن عبدالملک خلیفہ قرار پایا۔ سلیمان بن عبدالملک کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ امیر موسیٰ کی حکم عدولی کو حسن نیت پر محمول کر کے معاف کر دے۔ مگر وہ ان کو معاف نہ کر سکا۔ اس نے امیر موسیٰ کے ساتھ سخت سلوک کیا حتٰی کہ ان کو قید میں ڈال دیا۔ موسیٰ بن نصیر شدید مایوسی اور ناکامی کے عالم میں اگلے ہی سال 97ھ میں وفات پا گئے۔ بوقت وفات ان کی عمر78 سال تھی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion