ایمانی حوصلہ

خدائی صراطِ مستقیم جو پیغمبر کے ذریعے کھولی گئی ہے، اس کا پہلا اور بنیادی جزء ایمان باللہ ہے۔ اللہ پر ایمان کسی قسم کے تلفّظِ کلمہ کا نام نہیں، یہ ایک عظیم ترین حقیقت پر گہرے یقین کا نام ہے جو آدمی کے اندر زبردست ذہنی انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔

خدا اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ وہ لامحدود علم اور لامحدود طاقت والا ہے۔ وہ ہر قسم کے صفاتِ کمال کا ابدی خزانہ ہے۔ ایسے خدا پر ایمان لانا گویا طاقتور ترین ہستی کو اپنی حمایت پر کھڑا کر لینا ہے۔ یہ احساس آدمی کو ایسا برتر حوصلہ دیتا ہے جو کبھی مایوسی کا شکار نہ ہو، جو کبھی زیر ہونے پر راضی نہ ہو سکے۔ جو نازک ترین لمحات میں بھی ہمت اور عزم کو نہ کھوئے۔

ایمان آدمی کو کیسا اتھاہ حوصلہ دیتا ہے، اس کا ایک اعلیٰ نمونہ پیغمبرِ اسلام کا وہ واقعہ ہے جو غار ثور میں پیش آیا۔ مکہ والے اسلام کے دشمن ہوگئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اس وقت آپ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ اہل مکہ کو جب معلوم ہوا تو وہ راستوں کی طرف دوڑے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ کے ساتھی حضرت ابوبکر کی زبان سے نکلا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے۔ آپ نے نہایت پرسکون لہجے میں فرمایا:يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ ‌اللهُ ‌ثَالِثُهُمَا۔ ( صحيح مسلم،حدیث نمبر2381)یعنی، اے ابوبکر ،ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمہ بلاشبہ انسانی حوصلے کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اور یہ اعلیٰ مثال تاریخِ انسانی میں جس چیز نے قائم کی، وہ ایمان باللہ تھا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایمان باللہ میں کس طرح یہ عظیم طاقت ہے کہ وہ نازک ترین لمحات میں بھی انسان کو بے حوصلہ ہونے سے بچائے۔ وہ آخری حد تک اس کو عزم و ہمت کے بلند معیار پر قائم رکھے۔

قدیم عرب کی تاریخ کا ایک سال وہ ہے جو عام الفیل(571ء)کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ سال ہے جب کہ یمن کا عیسائی حکمران ابرہہ60 ہزار آدمیوں کا لشکر اور ایک درجن ہاتھی لے کر مکہ کی طرف بڑھا تاکہ کعبہ کو ڈھاکر اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ اہل عرب کے لیے اس وقت ہاتھیوں کا تصور بڑا بھیانک تھا۔ چنانچہ ہاتھیوں کی فوج کی خبر سن کر مکہ کی اکثریت شہر چھوڑ کر پہاڑوں اور وادیوں میں جا کر چھپ گئی ان کو یہ بات ناقابل تصور معلوم ہوئی کہ وہ ایک ایسی فوج کا مقابلہ کریں جس میں ’’متحرک چٹانیں‘‘ انسانوں کو کچلنے کے لیے آگے آگے چل رہی ہوں۔

اس واقعہ(571ء) کے ستر سال بعد642ء میں انہیں عربوں کا مقابلہ ایرانیوں کے ساتھ پیش آیا۔ دریائے فرات کے کنارے ایرانیوں کا لشکر اس طرف صف آرا ہوا کہ ان کے آگے سو سے بھی زیادہ جنگی ہاتھی کالے دیو کی طرح کھڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھیوں کو دیکھ کر عربوں کے گھوڑے بدکنے لگے۔ اس وقت بہت سے عرب فوجی اپنے گھوڑوں کی پیٹھوں سے کود پڑے۔ انہوں نے اپنی تلوار کے ذریعے ہاتھیوں پر حملہ کر دیا اور ان کی سونڈیں کاٹ ڈالیں۔ اس کے بعد ہاتھیوں کی صفیں ٹوٹ گئیں۔ وہ چیختے ہوئے پیچھے کی طرف بھاگے۔ اور خود ایرانی فوجیوں کو اپنے بھاری قدموں کے نیچے روند ڈالا۔

571ء کے عرب اور642ء کے عرب کے درمیان یہ فرق کیسے پیدا ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عظیم فرق ایمان باللہ کی طاقت نے پیدا کیا۔571ء کے عرب مشرکانہ عقیدہ میں جی رہے تھے۔642ء کے عربوں کو پیغمبر اسلام نے توحید کے عقیدہ پر کھڑا کر دیا تھا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے پہلے انسان اور بعد کے انسان میں اتنا بڑا فرق پیدا کر دیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion