اصل مسئلہ باشعور بنانا

ایک مصنف کے بارے میں  اگر کہا جائے کہ وہ انسانیت کی زیادہ بڑی خدمت اس وقت انجام دے سکتا ہے جب کہ اس کو مطالعہ کے کمرہ سے نکال کر اکھاڑے کے میدان میں  لایا جائے تو یہ ایک احمقانہ بات ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک صاحب شعور ہستی ہے۔ انسان کی ترقی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اپنے کو کتنا زیادہ باشعور بناتا ہے۔ نہ یہ کہ جسمانی طور پر وہ کس میدان میں  اپنے آپ کو دوڑا رہا ہے۔

یہی بات مرد کے بارے میں  صحیح ہے اور یہی بات عورت کے بارے میں  بھی درست ہے۔ افریقہ میں  کئی ملک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر عملاً وہاں کی سیاست اور تجارت پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ عیسائی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ قوم ہیں اور مسلمان ابھی تک تعلیم میں  آگے نہ بڑھ سکے۔

عورت کو ترقی دینے کا اصل راز یہ نہیں ہے کہ اس کو زندگی کے ہر میدان میں  داخل کیا جائے۔ بلکہ اس کا اصل راز یہ ہے کہ عورت کو صاحب علم اور صاحب شعور بنایا جائے۔ عورت جتنا زیادہ باشعور ہو گی اتنا ہی زیادہ بڑا کام وہ اس دنیا میں  انجام دے سکے گی۔ عورت اگر حقیقی معنوں میں  باشعور ہو تو گھر کے ا ندر رہ کر بھی وہ انتہائی بڑے بڑے کام انجام دے سکتی ہے۔ اور اگر وہ بے شعور ہو تو وہ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتی خواہ اس کو سب سے بڑے چوراہے پر کیوں نہ کھڑا کر دیا گیا ہو۔

تاریخ میں  ایسی بہت سی عورتیں گزری ہیں جو عملاً گھر کے اندر رہیں مگر باہر کی دنیا پر انھوں نے اپنے زبردست اثرات ڈالے۔ انھیں میں  سے ایک نور جہاں ہے جو مغل حکمراں جہاں گیر کی بیوی تھی۔ جہاں گیر نے اس کے بیوہ ہونے کے بعد 1611ء میں  اس سے شادی کی۔ قدیم رواج کے مطابق نور جہاں زیادہ تر شاہی محل کے اندر رہتی تھی۔ مگر تمام مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے محل کے باہر کے امور میں  جہاں گیر کے واسطے سے زبردست اثرات ڈالے۔

نور جہاں نے اگرچہ کئی حماقتیں کیں ، اس کی سب سے بڑی حماقت یہ تھی کہ اس نے یہ کوشش کی کہ اس کا داماد (شہریار) جہاں گیر کے بعد مغل تخت کا وارث ہو۔ جہاں گیر کے تین لڑکے تھے۔ ان میں  شہزادہ خرم (شاہ جہاں) نہایت لائق تھا۔ چنانچہ جہاں گیر اسی کو اپنا سیاسی وارث بنانا چاہتا تھا۔ مگر نور جہاں نے سازش کی کہ جہاں گیر کا چھوٹا لڑکا شہریار (جو نور جہاں کا داماد تھا) وہ جہانگیر کا وارث بنے۔ اس کے نتیجے میں  آپس میں  لڑائی ہوئی اور زبردست خرابیاں پیدا ہوئیں۔

تاہم اس خاص پہلو سے قطع نظر، نور جہاں کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ عورت اگر لائق ہے تو وہ باہر کے امور پر کتنا زیادہ اثرانداز ہو سکتی ہے۔ نور جہاں کے بارے میں  یہ ثابت شدہ ہے کہ وہ خاتونِ خانہ تھی ، اس کے باوجود اس نے بیرونی کارنامے انجام دیے۔

 نور جہاں کے بارے میں  مورخین نے جو کچھ لکھا ہے ، ان میں  سے صرف ایک اقتباس ہم یہاں نقل کریں گے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ نگار لکھتا ہے:

‘‘Nur Jahan enjoyed great influence and authority and became a power behind the throne. Nur Jahan exercised a strong influence on her husband and looked after him with unparalleled care and devotion. Under her influence Jahangir restrained himself from excessive drinking. She relieved him of much of the drudgery of administrative routine and anxiety. She enhanced the splendour of the Mughal court and ably seconded the efforts of her husband in patronizing learning and art and disbursing charity.’’

(Encyclopedia Britannica, 9/383)

نور جہاں کو زبردست اثر اور اقتدار حاصل تھا۔ وہ تخت کے پیچھے ایک طاقت بن گئی۔ نور جہاں نے اپنے شوہر (جہاں گیر) پر زبردست اثر ڈالا اور بے مثال توجہ اور جاں نثاری کے ساتھ اس کی خبر گیری کرتی رہی۔ نور جہاں کے زیر اثر جہاں گیر نے اپنی شراب نوشی میں  کمی کر دی۔ اس نے جہاں گیر کو بہت سی انتظامی مشقتوں اور پریشانیوں سے نجات دے دی۔ اس نے مغل دربار کی عظمت بڑھائی اور علم اور آرٹ اور خیراتی امور میں  اپنے شوہر کی کوششوں کی نہایت قابلیت کے ساتھ مدد کی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion