واقعۂ افک

واقعۂ افک اسی سفر میں پیش آیا۔ حضرت عائشہ اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ واپسی میں لشکر نے مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک مقام پر قیام کیا۔ حضرت عائشہ قضاء حاجت کے لیے لشکر سے دور چلی گئیں۔ جب لوٹنے لگیں تو ہار ٹوٹ کر گر گیا جس کو تلاش کرنے میں دیر ہوگئی۔ اس اثناء میں لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ ہودج کے پردے گرے ہوئے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ محمل میں ہیں۔اس لیے وہ محمل کو اونٹ پر رکھ کرروانہ ہوگئے۔ جب حضرت عائشہ واپس آئیں تو یہاں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اسی جگہ چادر لپیٹ کر لیٹ گئیں۔

 صفوان بن معطل جو قافلہ کی گری پڑی چیزوں کے اٹھانے کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ حسب معمول وہاں آئے۔ انہوں نے حضرت عائشہ کو پہچان لیا۔ انہوں نے اناللہ و اناالیہ راجعون پڑھا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں:وَاللهِ ‌مَا ‌كَلَّمَنِي ‌كَلِمَةً، وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ ‌اسْتِرْجَاعِهِ(مسند احمد، حدیث نمبر 25623)۔ یعنی، خدا کی قسم، صفوان نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے ان کی زبان سے سوا’ان للہ‘ کے کوئی اور کلمہ سنا۔

حضرت صفوان نے اپنا اونٹ لا کر حضرت عائشہ کے قریب بٹھایا۔ حضرت عائشہ اس پرسوار ہوگئیں اور حضرت صفوان نکیل پکڑ کر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ بقیہ مسلمانوں سے مل گئے۔ جب منافقین کو اس کی خبر ہوئی تو وہ تہمت کی باتیں پھیلانے لگے۔

 اس واقعہ نے مدینہ میں فتنہ کی شکل اختیار کر لی۔ آخر کار حضرت عائشہ کی برأت میں سورہ النور کی آیتیں نازل ہوئیں اور یہ ہنگامہ ختم ہوا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion