احترام انسانیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ مختلف راویوں کے ذریعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ صحیح البخاری میں یہ واقعہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازے کو دیکھ کر اس کے احترام میں آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی کھڑے ہوگئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا (وہ مسلمان کا جنازہ نہ تھا)۔ آپ نے فرمایا:أَلَيْسَتْ نَفْسًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1312)۔ یعنی، کیا وہ انسان نہیں۔

امام البخاری کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے لاکھوں حدیثیں جمع کیں۔ پھر غیر معمولی محنت کے ذریعے (مکررات سمیت) ان میں سے 7563 حدیثیں منتخب کیں اور وہ قیمتی مجموعۂ احادیث تیار کیا جو صحیح البخاری کے نام سے ہمارے پاس موجود ہے اور جس کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جا تا ہے۔ اس اعتبار سے امام البخاری کا کارنامہ اتنا عظیم ہے کہ شاید اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔

لیکن بعد کی نسلوں کو یہیں رک جانا نہیں ہے ، بلکہ اور آگے بڑھنا ہے۔ مثلاً امام البخاری نے مذکورہ حدیث کو اپنے مجموعہ میں کتاب الجنائز (بَابُ مَنْ قَامَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ) کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ اپنی سوچ کو امام البخاری کے قائم کردہ ترجمۂ باب تک محدود کر لیں تو وہ اس حدیث کو صرف جنازہ کا ایک معاملہ سمجھیں گے اور اس سے جنازےکے مسائل نکالنے پر اکتفا کریں گے۔ان کا ذہنی سفر ، اس حدیث کے تعلق سے مسئلہ جنازہ سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔

اس کے بعد دوسرا گروہ شارحین کا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، احادیث کی شرحیں کثرت سے لکھی گئیں۔ ان شارحین نے حدیث اور روایت کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی بحثیں کی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بے حد ضروری مواد فراہم کیا ہے۔ یہ مواد بے حد اہم ہے۔اس سے حدیث کی مختلف جہتیں معلوم ہوتی ہیں جو حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے بلاشبہ ضروری ہیں۔

لیکن اگر بعد کے لوگ حدیث کی ان شرحوں کو حرف آخر قرار دے دیں تو پیغمبر اسلام کی احادیث پر مزید غور و فکر کا عمل رک جائے گا۔ اور یہ فکری ارتقاء کے اعتبار سے بہت بڑے نقصان کا باعث ہو گا۔ مثلاً مذ کورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے مختلف علما نے اس کا جو مفہوم بتایا ہے اس میں حدیث کا ایک اہم پہلو بیان ہونے سے رہ گیا۔ ان مختلف اقوال کو ابن حجر العسقلانی اور دوسرے شارحین حدیث کے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے مطابق کسی شارح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا سبب ملائکہ کو بتایا ہے۔ کسی نے لکھا ہے کہ آپ نے کراہت بخور (دھونی) کے لیے ایسا کیا۔ کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایسا کیا تھا مگر اب یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے (فتح الباری، جلد3، صفحہ 215-216)۔ایک قول کے مطابق، آپ نے اس کو پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گذرے اس لیے آپ کھڑے ہوگئے (وَكَرِهَ أَنْ تَعْلُوَ رَأْسَهُ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَامَ)۔ حدیث کی یہ تمام شرحیں علمی اور اصولی اعتبار سے درست نہیں۔ یہ تمام شرحیں ذاتی قیاس پر مبنی ہیں نہ کہ کسی واقعی علمی دلیل پر۔ حد یث کا ظاہری متن واضح طور پر بتا تا ہے کہ آپ نے اس یہودی کو انسان کی حیثیت سے دیکھااور بحیثیت انسان آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ یہ حدیث اپنے متن کے مطابق، احترام انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے۔

اب اس معاملے کو موجودہ زمانے کی نسبت سے دیکھیے۔ موجودہ زمانے  میں اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں احترام مسلم تو ہے مگر اس میں احترام انسانیت نہیں۔ یہ اعتراض بلاشبہ غلط ہے۔ قرآن وحدیث کے مختلف حوالوں سے اس کی تردید کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں بلاشبہ ایک اہم حوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ واقعہ میں ملتا ہے۔اس کو لے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں انسان کا احترام کامل درجہ میں موجود ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان جس کو خدا نے پیدا کیا ہے وہ ہر حال میں قابل احترام ہے، خواہ وہ اپنے مذہب کا ہو یا غیرمذ ہب کا، خواہ وہ ایک قوم سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری قوم سے، حتٰی کہ اگر وہ بظاہر دشمن قوم کا فرد ہو تب بھی انسان کی حیثیت سے اس کا احترام کیا جائے گا۔ جب کہ مذکورہ شرح کی صورت میں اسلامی تعلیم کا ہی اہم اصول اوجھل ہو جاتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion