تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق

مولانا سید حسین احمد مدنی (وفات 1957ء) نے لکھا ہے کہ — ’’تاریخ بتاتی ہے کہ ہند میں جب مسلمان آئے تو عام طور سے اہل ہند بودھ مذہب رکھتے تھے اور چھوت چھات تو در کنار شادی بیاہ تک بخوشی کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی ، خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی کا زمانہ آیا ہے تو ہندوؤں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہو تا ہے۔ اور شنکر اچاریہ لوگوں کو بدھ مذہب سے نکال کر پھر برہمنی مذہب کو اختیار کروانے میں کامیاب ہو جا تا ہے۔ اور پھر برہمنی مذہب سارے ملک میں پھیل جاتا ہے۔ برہمن چونکہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے مذہب کو مٹا رہا ہے۔ اس لیے  انہوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈہ پھیلایا اور مسلمانوں کو ملچھ کا خطاب دیا۔ اکبر نے اس تفریقی خیال اور اس عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا۔ اگر اکبر کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی۔ اور اسلام کے دلدادہ آج ہندستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اکبر نے (اپنی کم علمی کے باعث) نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں، جن سے مسلم طبقے میں اس سے بد ظنی ہوئی، اگر چہ بہت سے بد ظنی کر نے والے غافل اور کم سمجھ تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے۔ جس روز صلح حدیبیہ تمام کو پہنچی ہے اسی روز اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا (48:1) کی آیت نازل ہوئی۔ آپس میں اختلاط کا ہونا، نفرت میں کمی آنا، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا ، دلوں سے ہٹ دھرمی اور ضد کا اٹھ جانا، یہی امور تھے جنہوں نے قریش کو کھینچ کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینہ پہنچا دیا۔ الغرض اختلاط باعث عدم تنافر ہے اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا ہے اور تنافر باعث ضد اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے۔ اور وہ اسلامی ترقی میں سدِّراہ ہو نے والا ہے۔ چونکہ اسلام تبلیغی مذ ہب ہے۔ اس لیے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہوسکے غیر کو اپنے میں شامل کرے نہ یہ کہ ان کو دور کرے۔ اس لیے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ ہم کو نجس اور ملچھ کہیں تو ہم کو انہیں یہ نہ کہنا چاہیے۔ اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں تو ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہیے۔ وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں تو ہم کو ان کے ساتھ ظالمانہ اور غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہیے‘‘۔ (مکتوبات شیخ الاسلام، جلد 1، مکتوب نمبر 63، مطبوعہ مکتبہ دینیہ، دیو بند، صفحہ 141-146)۔

مولانا سید حسین احمد مدنی کے اس بیان پر غور کیجیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقلدانہ نظر کس طرح چیزوں کو صرف ان کے ظاہر (face value) پر لیتی ہے، اور مجتہدانہ نظر کس طرح چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ مغل بادشاہ اکبر اگر چہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھا مگر وہ بے حد ذہین تھا۔ اس نے اس راز کو سمجھا کہ اسلام اپنی فطری کشش کی بنا پر ہر انسان کو اپیل کر تا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان ضد اور نفرت کی فضا نہ پائی جارہی ہو۔ اس نے مزید اس حقیقت کو سمجھا کہ برہمنوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری پیدا کر کے اسلام کی اشاعت کو مصنوعی طور پر روک دیا ہے۔ اس دریافت کی بنا پر اکبر نے یہ کیا کہ اس نے کچھ بے ضرر ہندو رسموں کو اپنے دربار میں رائج کر دیا۔ اکبر کی یہ روش ہندو مذہب کو اپنانے کے لیے نہ تھی بلکہ وہ صرف تالیف قلب کے لیے تھی۔ اس کا اصل مقصد اسلام کی اشاعت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔

لیکن اکبر کے کچھ معاصر علما اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ ان کی نگاہ صرف اکبر کے گیروے کپڑے کو دیکھ سکی۔ اکبر نے جس گہری پالیسی کے تحت وقتی طور پر گیروے کپڑے کو اختیار کیا تھا اس حکمت کو سمجھنے سے وہ قاصر رہے۔ انہوں نے اکبر کے خلاف اتنا طو فان اٹھایا کہ اکبر کا منصوبہ اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اس معاملے کو غلط رنگ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندستانی تاریخ کا سفر اسلام کی موافقت میں جاری ہونے کے بجائے اسلام کے خلاف جاری ہو گیا۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس معاملے پر جو تبصرہ کیا ہے وہ مجتہدانہ نظر کی ایک واضح مثال ہے۔ وہ اپنی مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر اس راز کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ معتدل حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اختلاط ہمیشہ اسلام کی اشاعت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ چھری اور خربوزہ کے در میان اگر ٹکراؤ ہو تو جیت ہمیشہ چھری کی ہو گی۔ خواہ چھری کو خربوزہ کے اوپر رکھا گیا ہو یا خربوزہ کے نیچے ، حتٰی کہ اس وقت بھی جب کہ چھری نے بظاہر اپنے آپ کو خربوزہ کے رنگ میں رنگ لیا ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion