سیاسی بگاڑ
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ آپ نے ان تمام باتوں کو بیان کیا جو آپ کے زمانے سے لے کر قیامت برپا ہونے تک پیش آئیں گی۔ آپ نے ان میں سے کسی بات کو بھی بیان کیے بغیر نہیں چھوڑا:قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مَقَامًا، مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ۔ ( صحيح مسلم، حدیث نمبر 2891)
حضرت حذیفہ ایک اور روایت میں کہتے ہیں کہ دوسرے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے۔ مگر میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھ کو پکڑ نہ لے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جاہلیت اور شر میں تھے ، یہاں تک کہ اللہ اس خیر کو ہمارے درمیان لے آیا۔ پھر کیا اس خیر کے بعد دوبارہ شر ہو گا ۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں دوبارہ شر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اس وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھینا جائے ، تب بھی سنو اور اطاعت کرو:تَسْمَعُ وَتُطِيعُ الْأَمِيرَ، وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847)دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین زمانوں کی بابت فرمایا ہے کہ وہ خیر کا زمانہ ہو گا— دور رسالت، دور صحابہ، دور تابعین۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ لوگوں میں بہتر کون ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے زمانہ کے لوگ، اس کے بعد دوسرا ، اور اس کے بعد تیسرا:سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم:أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ۔ (مسند احمد،حدیث نمبر 25233)
احادیث سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ جب برا زمانہ شروع ہو گا تو وہ برابر جاری رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ صحیح بخاری میں زبیر بن عدی سے روایت ہے کہ ہم حضرت انس بن مالک کے پاس آئے اور ان سے حجاج بن یوسف کے ظلم کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صبر کرو۔ کیوں کہ اب تمہارے اوپر جو زمانہ بھی آئے گا وہ اور بھی زیادہ برا ہو گا، یہ حالت جاری رہے گی ، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو، ایسا ہی میں نے تمہارے نبی سے سنا ہے:اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 6657)
صحیح مسلم میں حضرت ابوبکرہ کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک آئندہ فتنے ہوں گے۔ سن لو کہ پھر فتنے ہوں گے۔ سن لو کہ پھر فتنے ہوں گے۔ بیٹھنے والا اس میں چلنے والے سے بہتر ہو گا۔ اور چلنے والا اس میں دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ سُن لو کہ جب ا یسا ہو تو جس کے پاس اونٹ ہو تو وہ اپنے اونٹ سے مل جائے۔ جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے مل جائے۔ جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین سے مل جائے۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ اے خدا کے رسول ، جس آدمی کے پاس نہ اونٹ ہو اور نہ بکری اور نہ زمین ، وہ کیا کرے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنی تلوار کو لے اور اس کی دھار کو پتھر پر مار کر سے توڑ ڈالے۔ پھر وہ اپنے آپ کو بچا لے، اگر وہ بچنا چاہے۔ اے اللہ ، کیا میں نے پہنچا دیا۔ یہ فقرہ آپ نے تین بار فرمایا:
سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ. قَالَ:فَقَالَ رَجُلٌ:يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟ قَالَ:يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ۔ ( صحيح مسلم، حدیث نمبر 2887)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی روایتیں کثرت سے منقول ہیں۔ ان کو حدیث کی کتابوں میں کتاب الفتن اور د وسرے ابواب کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ احادیث بتاتی ہیں کہ سیاسی بگاڑ کے زمانے میں عام مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی ٹکراؤ سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے ۔ حکمراں افراد کے بگاڑ کے باجود انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سیاسی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیں۔
حدیث کے مطابق ایسے زمانے میں اہل ایمان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی بکری ، اپنے اونٹ اور اپنی زمین کے ساتھ لگ جائیں اور اس کے اندر اپنا عمل جاری کر دیں۔ یہ دراصل تمثیل کی زبان میں مسلمانوں کو ان کے عمل کا رخ بتایا گیا ہے۔ یعنی سیاسی ٹکراؤ کے دائرےکو چھوڑ کر اس غیر سیاسی دائرےمیں اپنی کوششوں کو لگا دینا جہاں حکمرانوں سے ٹکراؤ کے بغیر اپنا عمل جاری رکھنا ممکن ہوتا ہے۔
تاہم ان ہدایات کا تعلق آغاز سفر سے ہے ، منزل سے نہیں ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم حکومت میں بگاڑ دیکھو تو حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے اپنے عمل کا آغاز نہ کرو، بلکہ غیر سیاسی میدانوں میں تعمیری جدوجہد سے اپنا عمل شروع کرو، اور پھر حسب حالات آگے کی طرف قدم اٹھاؤ ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے ایک طرف بعد کے مسلمانوں کو وہ ہدایات دیں جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ا س کا عملی نمونہ بھی قائم کر دیا گیا۔ یہ نمونہ پیغمبر اسلام کے دو نواسوں کے ذریعہ قائم کیا گیا۔ ایک حسنؓ بن علی ، اور دوسرا حسینؓ بن علی۔ پہلا نمونہ اس بات کا کہ سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر اگر کام کیا جائے تو اس سے اسلام کو کس قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اور دوسرا نمونہ اس بات کا کہ اگر اصلاح سیاست کے نام پر حکمرانوں سے ٹکراؤ کیا جائے تو اس سے کس قسم کے نقصانات امت کے حصےمیں آئیں گے۔
