اضافۂ متر جم
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے نبی ، ایمان والے مَردوں سے کہوکہ وہ اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگا ہوں کی حفاظت کریں۔ یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے۔ بے شک اﷲباخبر ہے اس سے جو وہ کرتے ہیں۔ اور ایمان والی عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگا ہوںکی حفاظت کریں۔ اور وہ اپنی زینت کو نہ کھولیں مگر وہ جو ظاہر ہوجائے:وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ( 24:31)۔
اس آیت کے سلسلے میں یہ سوال ہے کہ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے کس چپز کا استثنا مراد ہے ، یعنی وہ کیا چیز ہے جس کو عورت کھلارکھ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں فقہا اور مفسرین کی دور ائیں ہیں۔ یہ دو رائیں اس واقعہ پر مبنی ہیں کہ زینت دوقسم کی ہوتی ہے۔ زینت ِ خِلقیہ اور زینتِ مُکتسبہ۔ چنانچہ ایک گروہ نے اس سے دونوں قسم کی زینتیں مراد لی ہیں، اور دوسرے گروہ نے اس سے صرف زینتِ مکتسبہ مراد لیا ہے۔
ابن مسعود، حسن ، ابن سیرین ، ابو الجو زاء ، ابرا ہیم نخعی وغیرہ نے اس سے صرف زینتِ مکتسبہ مراد لیاہے۔ یعنی وہ آرائش وزیبائش جو عورت خود اپنے جسم پر ڈالتی ہے۔ مثلاًکپڑا وغیرہ۔ ان حضرات کے نزدیک عورت کو باہر نکلنے کی صورت میں اپنی اس قسم کی زیبائش کو خود سے کھلانہیں رکھنا چاہیے، البتہ اگر اس کا کوئی جزء آپ سے ظاہر ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً جسم کے اوپر کی چادر کا ہوا سے اڑنا اور اس کی وجہ سے وقتی طورپر کسی زیبا ئش کا کھل جانا۔
دوسری رائے وہ ہے جو عبد اﷲ بن عباس ، عبداﷲبن عمر، عطاء ، عکرمہ ، سعید بن جیر ، ابوالشعثاء، ضحاک ، ابراہیم نخعی وغیرہ سے منقول ہے۔ یہ حضرات إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا (24:31) سے وجہ اور کفین (چہرہ اور دونوں ہاتھ )کا استثنا ء مراد لیتے ہیں۔ یہ دوسری تفسیرا س روایت پر مبنی ہے جس کو ابو داؤد نے اپنی سُنن (حديث نمبر 4104)میں نقل کیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیںکہ اسماء بنت ابی بکر آئیں اور ان کے جسم پر باریک کپڑا تھا۔ آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ آپ نے فرمایا اے اسماء عورت جب حیض کو پہنچ جائے تواس کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے سوااپنے جسم کا کوئی اور حصہ کھولے۔ اور آپ نے اپنے چہر ہ اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا (تفسیرابن کثیر ، جلد 3، صفحہ 283)۔
اس بناء پر اس معاملہ میں فقہا ء کے دوگروہ ہوگئے ہیں۔ احناف اور مالکیہ کا کہنا ہے کہ چہر ہ اور دونوں ہتھلیاں چھپانے والی چیزوں میں شامل نہیں (إِنَّ الوَجْهَ وَالكَفَّيْنِ لَيْسَتَا بِعَوْرَةٍ فَقَدِ اسْتَثْنَتِ الآيَةُ(24:31) مَا ظَهَرَ مِنْهَا أَيْ مَا دَعَتِ الحَاجَةُ إِلَى كَشْفِهِ وَإِظْهَارِهِ وَهُوَ الوَجْهُ وَالكَفَّانِ)۔
شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ وجہ اور کفین ’’عورت ‘‘ ہیں۔ یعنی چھپانے کی چیزیں ہیں۔ ان کے نزدیک زینت ِخلقی اور زینتِ کسبی دونوں مطلق طور پر چھپانے کی چیزیں ہیں۔ ان کا کھولنا عورت کے لیے حرام ہے۔ اور إِلَّا مَا ظَهَرَ سے جو چیز مستثنیٰ کی گئی ہے وہ صرف وہ چیز ہے جو قصدو ارادہ کے بغیر اپنے آپ کھل جائے۔ اس پر ان سے مواخذہ نہیں۔ چنانچہ چہرہ اور ہتھیلی عورت کی وہ زینت ہیں جن کا کھولنا (ضرورت کے بغیر ) حرام ہے) أَنَّ المُرَادَ مَا ظَهَرَ بِدُونِ قَصْدٍ وَلَا عَمْدٍ مِثْلَ أَنْ يَكْشِفَ الرِّيحُ عَنْ نَحْرِهَا أَوْ سَاقِهَا أَوْ شَيْءٍ مِنْ جَسَدِهَا، وَيُصْبِحَ مَعْنَى الآيَةِ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ:وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ أَبَدًا وَهُنَّ مُؤَاخَذَاتٌ عَلَى إِبْدَاءِ زِينَتِهِنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا بِنَفْسِهِ وَانْكَشَفَ بِغَيْرِ قَصْدٍ وَلَا عَمْدٍ، فَلَسْنَ مُؤَاخَذَاتٍ عَلَيْهِ فَيَكُونَ الوَجْهُ وَالكَفَّانِ مِنَ الزِينَةِ الَّتِي يَحْرُمُ إِبْدَاؤُهَا(محمد علی الصابونی ، روائع البیان، جلد 2، صفحہ 154-55۔
مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ النور کی مذکورہ آیت (31) کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’ احقرکے نزدیک یہاں زینت کا تر جمہ زیبائش زیادہ جامع اور مناسب ہے۔ زیبا ئش کا لفظ ہر قسم کی خِلقی اور کسبی زینت کو شامل ہے، خواہ وہ جسم کی پیدائشی ساخت سے متعلق ہویا پوشاک وغیرہ خارجی ٹیپ ٹاپ سے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ عورت کوکسی بھی قسم کی خِلقی یا کسبی زیبائش کا اظہار بجز محارم کے کسی کے سامنے جائز نہیں۔ ہا ں جس قد ر زیبائش کا ظہور ناگزیر ہے اور اس کے ظہور کو بسبب عدم قدرت یا ضرورت کے روک نہیں سکتی۔ اس کے بہ مجبوری یا بہ ضرورت کھلارکھنے میں مضائقہ نہیں (بشر طیکہ فتنہ کا خوف نہ ہو)۔
حدیث وآثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ اور کفین (ہتھیلیاں ) إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا میں داخل ہیں۔کیوں کہ بہت سی ضروریات دینی و دنیوی ان کے کھلارکھنے پر مجبورکر تی ہیں۔ اگر ان کے چھپانے کا مطلقاً حکم دیا جائے تو عورتوں کے لیے کاروبار میں سخت تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ آگے فقہانے قدمین کو بھی ان ہی اعضاپر قیاس کیاہے۔ لیکن واضح رہے کہ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے صرف عورتوں کو بہ ضرورت ان کے کھلارکھنے کی اجازت ہوئی۔ نامحرم مردوں کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ان اعضاء کا نظارہ کریں۔ شاید اسی لیے اس اجازت (آیت 31)سےپیشترہی حق تعالی ٰنے غض بصرکا حکم(آیت 30) مومنین کو سنا دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک طرف سے کسی عضو کے کھولنے کی اجازت اس کو مستلز م نہیں کہ دوسری طرف سے اس کو دیکھنا بھی جائز ہو۔‘‘
