جنگ کادورختم

پائرس(Pyrrhus)قدیم یونان کایک بادشاہ تھا۔وہ319ق م میں پیدا ہوا، اور 272ق م میں اسکی وفات ہوئی۔ 279ق م میں اس کی لڑائی رومیوں (Romans) سے ہوئی۔ اس جنگ میں شاہ پائرس جیت گیا۔مگر جب لڑائی ختم ہوئی تو اس کی اقتصادیات اور اس کی سیاسی اورفوجی طاقت پوری طرح تباہ ہوچکی تھی۔اسی واقعہ سےپرک وکٹری  (Pyrrhic Victory) کی اصطلاح بنی ہے، یعنی تباہ کن فتح۔

قدیم زمانے میں پرک وکٹری یاتباہ کن فتح کاواقعہ بہت کم پیش آسکتاتھا۔مگرموجودہ زمانے میں جدید ہتھیاروں کی ایجادکےبعدہرجنگ تباہ کن جنگ بن چکی ہے۔اب جنگ جیتنے والے اورجنگ ہارنےوالےکےدرمیان اتناہی فرق ہوتاہےکہ اخباروں میں دونوں کی خبریں الگ الگ الفاظ میں چھپتی ہیں،ورنہ حقیقت کےاعتبارسےدونوں کامعاملہ ایک ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ہار بھی ہار ہے اور جیت بھی ہار۔

موجودہ زمانےمیں جنگ صرف خودکشی ہے،جنگ اب کسی مثبت مقصدکوحاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔کسی قوم سےکوئی چیزکھوئی گئی ہوتواس کےلیے صبرہے، نہ کہ جنگ۔ کیوں کہ جنگ اب اس کےلیےمحرومی پرذلت کااضافہ ہے۔امن کابدل جنگ نہیں، امن کابدل گفت وشنیدہے۔

اس معاملےکی ایک مثال پاکستان کی تاریخ میں ملتی ہے۔پاکستان1947 میں بنا۔اس وقت بنگلہ دیش پاکستان کامغربی حصہ تھا۔پھرایسےحالات پیش آئےکہ بنگلہ دیش پاکستان سےپوری طرح الگ ہوگیا۔آخرکارپاکستان نےحقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس جغرافی محرومی پرصبرکرلیا۔اگرپاکستان ایسانہ کرتاتووہ اپنے کھوئے ہوئےحصہ کی خاطر اپنے بقیہ  حصہ کوبھی تباہ کرلیتا۔جنگ کامطلب نتیجے کےاعتبارسےیہ ہے کہ جو کچھ بچا ہے اس کو بھی کھو دیا جائے، جزئی محرومی کو کلی محرومی بنا دیا جائے۔

یہ ایک حقیقت ہےکہ جنگ اب کسی کےلیے  بھی انتخاب(option)نہیں۔آج کی جنگ میں ہارنےوالے کے لیے بھی ہار ہے اورجیتنےوالےکےلیے بھی ہار۔ تاہم اس میں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔دورجدیدنےاگرایک طرف جنگ کو ناممکن بنا دیا ہے تو دوسری طرف جدیددورکےنتیجہ میں ایسی انقلابی تبدیلیاں ظہورمیں آئی ہیں کہ کوئی محرومی ثابت نہ ہو۔ آج کوئی فردیاگروہ،خواہ وہ کسی بھی حال میں ہو،ازسرنواپنی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ پہلےسےزیادہ بڑی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ کھونے کے بعد وہ کامیابی کے نئے امکانات کو پاسکتا ہے۔

موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن نےچھوٹےملک اوربڑےملک کےفرق کو مٹا دیا ہے۔ گلو بلائزیشن کے جدیددور نے جغرافی حدودیت کے تصور کو عملاً غیر موثر بنا دیا ہے۔ جدید تبدیلیوں کے بعد اب جنگ کی حیثیت کسی صحت مند انتخاب کی نہیں رہی۔

اب جنگ سادہ طور پرجنگ نہیں، وہ غصہ اور نفرت اور مایوسی کے تحت پیش آنے والا ایک منفی واقعہ ہے، نہ کہ کسی تعمیری منصوبہ بندی کا مثبت نتیجہ۔ اب جنگ صرف خودکشی کی مایوسانہ چھلانگ ہے،وہ کسی صحت مندذہن کےتحت کیاہوا مفید اقدام نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion