گروہی عصبیت کہاں تک لے جاتی ہے
بنو مضر اور بنوربیعہ عرب کے دو حریف قبیلے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نسلاً قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔ مسیلمہ، جس نے آپ کے مقابلہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو قبیلہ ربیعہ کا سردار طلحہ النمری مسیلمہ کے پاس آیا۔ گفتگو کے بعد طلحہ نے مسیلمہ سے کہا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جھوٹا ہے اور محمد سچے ہیں۔ مگر ربیعہ کا کذاب مضر کے صادق سے مجھ کو زیادہ محبوب ہے‘‘ یہ کہہ کرمسیلمہ کے ساتھیوں میں شریک ہو گیا۔ (تاريخ الطبري ، جلد3، صفحہ 286)
مسیلمہ نے قرآن کے جواب میں جو کلام بنایا تھا، اس کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کی عظمت کو خوب جانتا تھا۔ تاہم گروہی عصبیت کی بنا پر کچھ مسخرہ پن کے جملے وضع کر کے لوگوں کو سنایا کرتا تھا۔ مثلاً اس کا ایک کلام یہ تھا:
يَا ضُفْدَعُ نَقِّي نَقِّي، لا الشَّارِبَ تَمْنَعِينَ، وَلا الْمَاءَ تَكْدُرِينَ، لَنَا نِصْفُ الأَرْضِ، وَلِقُرَيْشٍ نِصْفُ الأَرْضِ، وَلَكِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُّونَ(تاريخ الطبري، جلد3، صفحہ 300)۔ یعنی، اے مینڈک ٹرٹر کر لے، تو نہ پانی پینے والوں کو روکتی ہے اور نہ پانی کو گدلا کرتی ہے۔ زمین عرب آدھی ہم ربیعہ والوں کی اور آدھی قریش کی۔ مگر قریش تو زیادتی سے کام لے رہے ہیں۔
