تعمیر حیات
کسی کا قول ہے:ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے، سوا اس مسئلہ کے جس کو نا قابل حل سمجھ لیا جائے۔ یہ بہت با معنی قول ہے۔ اس کا تعلق انسان کے ہر معاملہ سے ہے ، خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا کوئی بڑا معاملہ ۔ خواہ وہ ایک شخص کا معاملہ ہو یا پوری قوم اور پورے ملک کا معاملہ۔
انسان کے سامنے جب کوئی مسئلہ آتا ہے تو عام طور پر اس کو مسئلہ کا ایک ہی پہلو دکھائی دیتا ہے ۔ اور وہ اس مسئلہ کا مشکل ہونا ہے، مسئلہ کا آسان پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو صرف مشکل ہی مشکل ہو ۔ اس میں آسانی کا پہلو موجود نہ ہو۔ مسئلہ پیش آنے کے بعد آدمی اگر گہرائی کے ساتھ سوچے تو اس کو نظر آئے گا کہ جہاں مشکل تھی وہ ہیں آسانی کی صورتیں بھی اس کے لیے موجود تھیں ۔ جہاں نا موافق پہلو تھے، وہیں کچھ موافق پہلو بھی تھے جو اس انتظار میں تھے کہ کوئی آئے اور ان کو استعمال کرے۔
ایک صاحب نے ایک شخص کی شرکت میں ایک کاروبار کیا۔ کاروبار میں اچھا نفع ہوا۔ اس کے بعد شریک کی نیت بگڑی۔ اس نے کچھ غلط تدبیر کر کے پورے کاروبار پر قبضہ کر لیا۔ اور دوسرے صاحب کو اس سے الگ کر دیا۔ پہلے دونوں کی حیثیت برابر کے شریک کی تھی۔ اب یہ صورت بن گئی کہ ایک شخص تنہا پورے کاروبار کا مالک ہے ، اور دوسرے کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔
ان صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ بہت غصہ میں تھے اور اتنا مایوس تھے کہ خود کشی کر لینا چاہتے تھے ، میں نے کہا کہ آپ کے پاس دو چیزیں تھیں۔ ایک کاروبار ، اور دوسرے آپ کا اپنا وجود، کاروبار اگر آپ سے کھویا گیا تو اس کے لیے اتنا غم کرنے کی کیا ضرورت ۔ آپ کا اپنا وجود تو پھر بھی بدستور آپ کے پاس باقی ہے ۔ آپ اپنے اس باقی سرمایہ کو استعمال کیجیے ، آپ پہلی چیز سے اپنی نظریں ہٹا لیجیے اور اپنی ساری توجہ دوسری چیز پر لگا لیجیے۔ اللہ کی مدد سے یقینا آپ کامیاب رہیں گے۔
یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی۔ انھوں نے پچھلے کاروبار کو بھلا دیا اور از سر نو ایک نیا کاروبار شروع کر دیا۔ انھوں نے اپنی عقل اور محنت کو استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ان کا کاروبار چل گیا۔ چند سال کے بعد وہ اس شخص سے بھی آگے بڑھ گئے جس نے دھوکا دے کر پچھلے کاروبار پر قبضہ کر لیا تھا۔وہ آدمی جہاں تھا وہیں رہ گیا۔ اور انھوں نے اپنی محنت سے ترقی کا برتر مقام حاصل کر لیا۔
یہی اس دنیا میں زندگی اور ترقی کا راز ہے ۔ اس دنیا میں آدمی کو اس احساس کے ساتھ زندگی گزارنا ہے کہ یہاں اگر دشواریاں ہیں تو یہاں مواقع بھی ہیں۔ یہاں اگر نقصان ہے تو یہاں فائدہ کی صورتیں بھی موجود ہیں۔ یہاں اگر دشمن ہیں تو یہاں دوست بھی ہیں ۔ یہاں اگر تاریک پہلو ہیں تو اسی کے ساتھ یہاں روشن پہلو بھی ہیں۔ یہاں اگر کھونے کی مثالیں ہیں تو یہاں پانے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہاں اگر انسان کے لیے ’’نہیں‘‘ ہے تو یہاں اس کے لیے ’’ہاں‘‘ بھی پوری طرح موجود ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کبھی مایوس نہ ہو ۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنا حوصلہ نہ کھوئے ۔ وہ ماضی کو بھلا کر ہمیشہ مستقبل کی طرف دیکھے۔ ہر بار گرنے کے بعد وہ دوبارے اٹھنے کی کوشش کرے۔ وہ کسی ہونے والی بات کو کبھی آخری ہونے والی بات نہ قرار دے ۔
حوصلہ مندی اس دنیا میں کسی آدمی کا سرمایہ ہے۔ یہ ایسا سرمایہ ہے جو کبھی کھویا جانے والا نہیں۔ حوصلہ مندی بلاشبہ سب سے زیادہ قیمتی دولت ہے ، اور حوصلہ مندی وہ دولت ہے جس کو کوئی چھیننے والا چھیننے پر قادر نہیں ۔
کسی کا قول ہے:سب کچھ کے پیچھے دوڑنے والا کچھ نہیں پاتا ، اور جو آدمی کچھ کے پیچھے دوڑے وہ آخر کار سب کچھ کو پالیتا ہے ۔ یہ زندگی کا اہم ترین راز ہے۔ زندگی انھیں لوگوں کے لیے ہے جو اس راز کو سمجھیں اور اس کو عملی طور پر استعمال کریں۔
آپ پھل دار درختوں کا ایک باغ لگانا چاہتے ہیں ۔ اگر آپ ایسا کریں کہ کہیں سے بڑے بڑے درخت لائیں اور ان کو اپنی زمین پر گاڑ دیں تو اس طرح آپ باغ والے نہیں بن سکتے۔ آج آپ جو درخت لگائیں گے وہ کل سوکھ چکے ہوں گے ۔ کل آپ دوسرے درخت لاکر لگا ئیں گے تو دوبارے وہ پرسوں تک سوکھ چکے ہوں گے ۔ آپ پچاس سال تک بھی ایسا کرتے رہیں تو کبھی آپ ہرے بھرے پیڑوں کے باغ کے مالک نہیں بن سکتے۔
باغ کا مالک بننے کی صورت صرف یہ ہے کہ آپ اپنے مطلوبہ درخت کے بیج حاصل کریں اور ان کو زمین میں گاڑ دیں۔ اس کے بعد ان کو کھاد اور پانی دیتے رہیں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو ضروری مدت گزر نے کے بعد آپ کی زمین پر ہرے بھرے درختوں کا باغ لہلہا رہا ہو گا۔
یہی معاملہ زندگی کے تمام معاملات کا ہے ۔ آپ کو علم میں آگے بڑھنا ہو ، یا آپ کو کاروبار کرنا ہو ۔ یا آپ کو ایک کارخانہ چلانا ہو ، ہر کام میں ترقی حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ شروع سے آغاز کیا جائے۔ کم سے چل کر زیادہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے ۔ پہلے صرف جزء پر قناعت کی جائے ، اس کے بعد کل کی امید کی جائے۔ موجودہ دنیا میں ترقی اور کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں جو کسی کو ترقی اور کامیابی کے درجہ تک پہنچانے والا ہو۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک آدمی کو کسی دوسرے شخص سے سابقہ پیش آتا ہے تو وہ جو کچھ دینے پر راضی ہوتا ہے وہ پہلے شخص کو کم نظر آتا ہے ۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی سے زیادہ سے زیادہ حاصل کر لے ۔ مگر یہ دانش مندی نہیں ۔ اس قسم کی کوشش کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ دونوں آدمیوں کے درمیان جھگڑا کھڑا ہو جائے گا اور جو کچھ مل رہا تھا اس کا ملنا بھی مشتبہ ہو جائے گا۔
آدمی کو چاہیے کہ ایسی نادانی نہ کرے۔ دوسرا شخص جو کچھ دینے پر راضی ہے اس کو لے کر اپنی زندگی کی جدو جہد شروع کر دے۔ وہ ملی ہوئی چیز کو زینہ بنا کر نہ ملی ہوئی چیز کو حاصل کرنے کی محنت میں لگ جائے۔ اگر وہ ایسا کرے تو چند سال کے بعد وہ دیکھے گا کہ دوسرا شخص اس کو جو کچھ دینے پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اس نے خود اپنی محنت کے ذریعہ حاصل کر لیا ہے۔
آدمی جب کسی نہ ملی ہوئی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ اس کوشش میں وہ اپنی ملی ہوئی ایک چیز کو ضائع کر رہا ہے۔ یہ ضائع ہونے والی چیز اس کا وہ وقت ہے جو اب بھی اس کو حاصل ہے۔ نہ ملی ہوئی چیز کی خاطر ملی ہوئی چیز کو کھونا عقل مندی نہیں ہوسکتی۔ غیر حاصل شدہ چیز کے پیچھے حاصل شدہ چیز سے محروم ہو جانا کسی سمجھ والے آدمی کا کام نہیں۔
وقت آدمی کی سب سے زیادہ قیمتی متاع ہے۔ دانش مند وہ ہے جو اپنے وقت کی قدرکرے ، جو وقت کے کھونے کو کسی بھی حال میں برداشت نہ کرے ۔
_______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 10 دسمبر 1992کونشر کی گئی ۔
