ایک نوجوان عالم دین کو نصیحت
ایک نوجوان عالم دین، محمد طلحہ ندوی(بجنور) 26 مارچ 2019کو ملاقات کے لیے میرے آفس میں آئے، اور نصیحت کی درخواست کی، تو میں نے ان کو یہ نصیحت کی:
(1) رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق آپ ٹھہر ٹھہر کر بولنا سیکھیں، کبھی تیز تیز نہ بولیں، تاکہ سننے والا ہر بات کو پکڑتا چلاجائے، یہی طریقہ رسول اللہ کا تھا:أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ یُحَدِّثُ حَدِیثًا لَوْ عَدَّہُ العَادُّ لَأَحْصَاہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3567؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر2493)۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کوئی بات اس طرح بولتے تھےکہ اگر کوئی گننے والا گننا چاہتا تو شمار کرلیتا۔
(2) سیاسی مسائل، اور شکایت کے مسائل اور دینی اختلاف کے مسائل پر بولنا بالکل چھوڑ دیں،ان کو ممنوعات کلام میں شمار کریں۔ اگر آپ نے ان دونصیحتوں پر عمل کیا، تو ان شاء اللہ، آپ ایک نئے انسان بن جائیں گے۔
نوٹہر انسان کو اس کے خالق نے کسی خاص صلاحیت کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اس عطیۂ الٰہی کو دریافت کرے، اور اس کو منصوبہ بند انداز میں استعمال کرے۔ (الرسالہ، جون 2019)
