عصبیت کہاں تک لے جاتی ہے
پیغمبر اسلام ﷺ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں مسلمانوں کے علاوہ کئی یہودی قبیلے آباد تھے۔ آپ نے ان قبیلوں سے معاہدہ کیا۔ ان معاہدوں کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ مگر انہوں نے اس کی خلاف ورزی کر کے غداری کے جرم کاارتکاب کیا چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد بنو نضیرکو مدینہ سے نکال دیا گیا۔
غزوہ خندق میں بنو قریظہ نے اسی قسم کی غداری کی۔ قریش کی واپسی کے بعد مسلمانوں نے بنو قریظہ کو گھیر لیا جو اپنے قلعہ نما مکان میں محصور تھے۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ اس کے بعد جب بنو قریظہ نے دیکھا کہ ان کے لیے کوئی چارۂ کار نہیں رہا ہے تو انہوں نے ثالث مقرر کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت قبیلہ اوس ان کا حلیف تھا، انہوں نے خود یہ شرط پیش کی کہ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ (جو مسلمان ہو چکے تھے) کو ثالث مقرر کیا جائے۔ وہ جو فیصلہ کریں گے منظور ہو گا۔ سعد بن معاذ نے تورات کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ کے تمام مرد قتل کر دیے جائیں اور ان کی عورتیں باندی بنا لی جائیں۔
یہودیوں میں ایک شخص زبیر بن باطا قرظی تھا۔ اس نے مدینہ کے ایک مسلمان ثابت بن قیس کے اوپر اسلام سے پہلے جنگ بعاث کے موقع پر احسان کیا تھا۔ مدینہ کے عربوں اور یہودیوں کی اس جنگ میں ثابت بن قیس گرفتار ہو گئے تھے۔ زبیر بن باطا نے ان کو آزاد کرایا۔ ثابت بن قیس نے چاہا کہ یہودی سردار کے اس قدیم احسان کا بدلہ ادا کریں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اپنی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے ان کے کہنے پر زبیر بن باطا کو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ ثابت بن قیس نے یہ خوش خبری اس یہودی کو پہنچائی تو اس نے کہا:میرے جیسا بوڑھا آدمی، جب اس کے پاس اس کے اہل و عیال اور اس کا مال ہی نہ ہو تو وہ اکیلا زندہ رہ کر کیا کرے گا۔ ثابت بن قیس نے دوبارہ رسول اللہ سے درخواست کی تو آپ نے اجازت دے دی کہ وہ اپنے اہل و عیال اور مال کو بھی لے سکتا ہے۔ مگر یہودی اس پر بھی مطمئن نہ ہوا۔ اب اس نے پوچھا کہ بنو قریظہ کے دوسرے سرداروں مثلاً کعب بن اسد، حی ابن اخطب ، عزّال بن سموئل کا کیا حشر ہوا۔ بتایا گیا کہ وہ قتل کر دیے گئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا ، وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ تھا:
فَمَا عَلِمَ أَ نَّهُمْ قُتِلُوا قَالَ:إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا ثَابِتُ بِيَدِيكَ عِندَكَ إِلَّا لَحَقْتَنِي بِالْقَوْمِ، فَوَ اللهِ مَا فِي الْعَيْشِ بَعْدَ هَؤُلَاءِ مِنْ خَيْرٍ، فَمَا أَنَا بِصَابِرٍ لِلهِ فَتْلَةٌ دَلُّو نَاضِحٍ حَتَّى أَلْقِيَ اللَّحَبَّةَ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ بِمَشِيئَةٍ (محمد حسین ہیکل، حیات محمد ، قاہرہ، 1965، صفحہ 340)۔ جب اس نے جانا کہ اس کے تمام یہودی سردار قتل کر دیے گئے، تو اس نے کہا، اے ثابت ، مجھے بھی میرے لوگوں تک پہنچا دو۔ خدا کی قسم ان کے بعد اب زندگی میں کوئی بھلائی نہیں۔ کنویں کے اندر ڈول ڈالنے کی مدت کے بقدر بھی صبر نہیں، یہاں تک کہ میں اپنے دوستوں سے مل جاؤں۔ پس اس کی مرضی کے مطابق اس کی گردن مار دی گئی۔
اس غزوہ میں جو یہودی عورتیں باندی بنائی گئی تھیں، ان میں ریحانہ نامی ایک عورت رسول اللہ کے حصہ میں آئی۔ آپ نے اس سے کہا کہ تم اسلام قبول کر لو میں تمہارے ساتھ شادی کر لوں گا۔ تم عزت سے میرے ساتھ رہنا۔ مگر وہ یہودیت ترک کرنے پر راضی نہ ہوئی۔ وہ آپ کی خدمت میں باندی کی حیثیت سے رہی اور اسی حال میں مر گئی۔
