ذہنی ارتقا کی اہمیت
قرآن کی سورہ طٰہٰ میں ایک دعا کا حکم ان الفاظ میں دیاگیا ہے:قُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (20:114) یعنی، تم کہو کہ اے میرے رب، میرا علم زیادہ کردے۔ اِس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے:اللَّهُمَّ، انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 251)۔ یعنی، اے اللہ جو علم تو نے مجھے دیا ہے، اس کو تو میرے لیے نافع بنا، اور مجھے وہ علم دے جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں اضافہ کر۔
اِس آیت اور اِس حدیثِ رسول میں جو بات بتائی گئی ہے، اس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ اِس سے مراد ذہنی ارتقا (intellectual development) ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن میں آدمی کو بنیادی علم دے دیاگیا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اِس علم کی روشنی میں مزید غور کرے اور اپنے علم میں برابر اضافہ کرتا رہے۔
علم میں اضافے کا مطلب ہے قرآن کے اشارات میں تفصیل کا اضافہ کرنا۔ بدلے ہوئے حالات میں قرآن کے انطباق (application) کو از سرِ نو دریافت کرنا۔ قرآن میں بتائی ہوئی نشانیوں (signs)کو نئی دریافتوں کے ذریعے مزید واضح کرنا۔ قرآن میں جو کچھ سطور (lines) میں بیان کیا گیا ہے، اُس پر غور کرکے اس کے بین السطور (between the lines) کو دریافت کرنا۔ قرآن میں فکری ارتقا اور تزکیۂ روحانی کے جو اصول بتائے گئے ہیں ، اُن کی اِس طرح تعبیر کرنا کہ وہ ہر دور کے ذہنِ انسانی کو ایڈریس کرسکے، وغیرہ۔
علم میں اضافے سے مراد ذہنی ارتقا میں اضافہ ہے، یعنی وہ علم جو آدمی کی معرفت کو بڑھائے، جو آخرت پسندانہ ذہن پیدا کرے، جو غیبی حقائق پر یقین میں مزید اضافہ کرے، جو قرآن کے اندر چھپی ہوئی نئی نئی حقیقتوں کو آدمی کے اوپر کھولنے والاہو۔ اِس طرح علم میں اضافہ آدمی کے ایمان میں اضافے کا ذریعہ ثابت ہوگا، اور ایمان میں اضافہ ایک ایسی چیز ہے جس کی کبھی کوئی حد نہیں آتی۔ (الرسالہ، اکتوبر 2012)
