ان کے پاس ہر روش کے لیے

ان کے پاس اپنی ہر غیر خدا پرستانہ روش کے لیے خدا کی کتاب میں دلیل موجود تھی

مسیح کے ظہور سے پہلے یہودی حضرت مسیح کے منتظر تھے۔ وہ دعاکرتے تھے کہ ’’خدایا مسیح کو جلد بھیج‘‘۔  مگر جب مسیح ایک غیر یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حتٰی کہ اپنے خیال سے آپ کو دار پر چڑھا دیا۔ اور آپ کا نام بیل زبوب (شیطان) رکھا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ وہی ’’شک‘‘ تھا جو مصریوں کو حضرت یوسفؑ کی نبوت ماننے میں رکاوٹ بنا تھا۔ حضرت مسیح اپنے دنیوی شان و شوکت لے کر ظاہر نہیں ہوئے۔ عام انسان وہ عظیم انسان ہو سکتا ہے جس کی پیشین گوئی ان کی مقدس کتابوں میں کی گئی تھی۔

یہودیوں نے حضرت مسیح کے انکار کا ایک نہایت آسان راستہ نکالا۔ ان کی کتابوں میں بعد کے دور کے لیے دو پیغمبروں کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ ایک مسیح، دوسرے ’’وہ نبی‘‘ انہوں نے یہ کیا کہ حضرت مسیح کو اس معیار سے جانچنا شروع کیا جو  ’’وہ نبی‘‘ کے لیے بتایا گیا تھا۔ چونکہ یہ معیار حضرت مسیح پر راست نہیں آ سکتا تھا۔ انہوں نے اعلان کر دیا کہ یہ ’’جھوٹے مسیح‘‘ ہیں اگر وہ سچے مسیح ہوتے تو ضرور ہماری آسمانی کتابوں کی پیشین گوئیاں ان پر صادق آتیں۔

انہوں نے کہا کہ مسیح کا ظہور، تورات کی نص کے مطابق بعض نشانیوں کے ساتھ ہو گا ۔

اور جب تک یہ نشانیاں ظاہر نہ ہوں، جو کوئی بھی مسیح ہونے کا دعوے دار ہو گا وہ جھوٹا ہوگا۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسیح ایک غیر معروف مقام سے ظاہر ہو گا۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ اس آدمی کا گھر ناصرہ میں ہے اور ناصرہ فلسطین کا ایک مشہور و معروف شہر ہے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ ایک لوہے کے عصا کے ساتھ حکومت کرے گا۔ یعنی وہ تلوار سے کام لے گا۔ مگر اس مدعی مسیح کے پاس لکڑی کا ڈنڈا تک نہیں ہے۔ تیسری شرط یا نشانی یہ ہے کہ وہ داؤد کے تخت پر بیٹھ کر داؤد کی بادشاہت کو قائم کرے گا۔ جب کہ اس مسیح کا حال یہ ہے اس کے پاس بیٹھنے کے لیے ایک چٹائی بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ایک شرط یہ ہے کہ وہ تورات کی شریعت کو پھر سے قائم کرے گا۔ مگر اس شخص نے اس شریعت کو منسوخ کر دیا۔ ایک نشانی مسیح کی یہ ہے کہ اس کے عہد میں عدل و انصاف اس قدر ترقی پائے گا کہ نیکی اور ہمدردی انسان تو انسان حیوان میں بھی پائی جائے گی۔ جب کہ مسیح کے زمانہ میں یہ حال ہے کہ ہر طرف ظلم اور انصاف کا دور دورہ ہے۔ اسی طرح ایک نشانی یہ ہے کہ مسیح کے وقت خدا پرست اتنے کامیاب ہوں گے کہ تمام دنیا کی قوموں پر فتح پائیں گے۔ مگر ہم نہایت ذلت اور غلامی کی حالت میں رومیوں کے ماتحت ہیں۔ پھر یہ شخص وہ مسیح کیسے ہو سکتا ہے جس کی تورات میں پیشین گوئی ہے۔

یہ جتنے معیار یہودیوں نے پیش کیے، وہ سب تورات میں لکھے ہوئے ہیں۔ مگر وہ ’’وہ نبی‘‘ کے ہیں ، نہ کہ مسیح کے ۔ یہودیوں نے وہ نبی کے معیار کو مسیح کے انکار کے لیے استعمال کیا۔ مگر جب وہ نبی عرب کے ایک غیر معروف شہر میں محمد بن عبداللہ کی صورت میں پیدا ہوئے اور خدا نے آپ پر وہ تمام نشانیاں مکمل طور پر پوری کر دیں جو تورات میں لکھی ہوئی تھیں تو انہوں نے آپ کی نبوت کا انکار کرنے کے لیے ایک اور وجہ تلاش کر لی۔ انہوں نے کہا: اب تک تمام انبیاء اسرائیل کے خاندان میں آئے، پھر اسمٰعیل کے خاندان میں کیسے کوئی نبی پیدا ہو سکتا ہے۔

یہود نے حضرت مسیح کے انکار کے لیے یہ کیا کہ پیغمبر آخر الزماں کی علامتوں کی آپ پر چسپاں کیا جو ظاہر ہے کہ آنجناب پر چسپاں نہیں ہو سکتی تھیں۔ اس کے بعد جب پیغمبر آخر الزماں کا ظہور ہوا تو آپ کو ان علامتوں سے جانچا جو ان کی کتاب میں حضرت مسیحؑ کے لیے بتائی گئی تھیں۔ اس طرح انہوں نے دونوں نبیوں کا انکار کر دیا۔ اور دونوں مواقع پر ان کے پاس یہ کہنے کے لیے کافی الفاظ موجود تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں کتاب اللہ کی روشنی میں کر رہے ہیں۔ ہم نے خدا کی کتاب سے ہٹ کر اپنے لیے کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion