پردہ کا حکم
از علامہ نا صر الدین الا لبانی

اس باب کے تحت ایک مشہور عرب عالم اور محدث محمد ناصر الدین الالبانی (1914-1999ء) کی عربی کتاب کا خلاصہ درج کیا جارہا ہے۔ راقم الحروف کا یہ تر جمہ اور خلاصہ ابتداء ًسہ ماہی مجلہ اسلام اور عصر جدید ( دہلی ) کے شمارہ جنو ری 1973 میں  شائع ہوا تھا۔

حجاب المرأة المسلمة في الكتاب والسنة

تالیف:محمد ناصر الدین الالبانی ( شامی )

صفحا ت ؛ 122 ، ناشر:المکتب الاسلامی ، بیروت (لبنان)

ہمارے پیش نظر اس عر بی کتاب کا تیسراا ڈیشن ( 1389ھ ) ہے جو ابتدائی اڈیشنوں کے مقابلے میں  مزید اضافوں کے ساتھ شا ئع کیا گیا ہے۔ اس میں  مصنف کے بیان کے مطابق ، قرآن و حدیث کی روشنی میں  پردے کے مسئلے کی تحقیق کی گئی ہے۔

مصنف کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عورت کا چہر ہ لازماًپردے میں  شامل نہیں ہے ( وَجْهُ ‌الْمَرْأَةِ ‌لَيْسَ بِعَوْرَةٍ)۔ اگر چہ انھیں یہ بھی اعتراف ہے کہ اس کا چھپانا زیادہ بہتر ہے (السَّتْرُھُوَ أَفْضَلُ)۔ وہ ان لوگوں سے متفق نہیں ہیںجو چہرے کو اگر چہ لازمی طور پر ستر میں  شامل نہیں سمجھتے۔ مگر فسادِ زمانہ کی بنا پر اسبابِ فتنہ کی روک تھا م کے لیے (سَدًّ ا لِلذَّرِیْعَةِ) اس کو چھپا نا ضروری قرار دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں  انھوں نے جن روایات سے استدلال کیا ہے، ان میں  سے ایک یہ ہے:

أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ:كنا نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ، يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، ‌مُتَلَفِّعَاتٍ ‌بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلَاةَ،لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ

(صحیح البخاری،حديث نمبر553)صفحہ 30۔يعني، حضرت عائشہ نے فرمایا:مسلم خواتین رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں  شریک ہوتی تھیں، چادر میں  لپٹی ہوتیں، پھر نماز کے بعد اپنے گھروں کو واپس ہوتی تھیں اور اس وقت اتنا اندھیرا ہوتا تھا کہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ ان عورتوں کا چہرہ کُھلا ہوتا تھا۔ کیوں کہ اگر چہرہ کُھلا ہوا نہ ہو تو ان کو پہچاننے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ’’اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں‘‘ یہ جملہ اس وقت بامعنی ہے جب کہ ان کا چہرہ ، جس سے آدمی حقیقۃً پہچانا جاتا ہے، کُھلا ہوا ہو۔

اسی طرح عورتوں کے ہاتھ کے شامِل ستر نہ ہونے کے سلسلے میں  انھوں نے ابن عباس کی مشہور روایت نقل کی ہے جس میں  آیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے سامنے تقریر فرمائی اور انھیں صدقے کی تلقین کی۔ اس کے بعد حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلایا تو عورتیں اپنے چھلّے اور انگوٹھی نکال نکال کر اس میں  ڈالنے لگیں(صحيح البخاري، حديث نمبر 977)۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ، صاحب کتاب ، ابن حزم (المحلّي بالآثار، جلد 2، صفحه248)کا قول نقل کرتے ہیں:

فَهَذَا ‌ابْنُ ‌عَبَّاسٍ ‌بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى أَيْدِيَهُنَّ؛ فَصَحَّ أَنَّ الْيَدَ مِنْ الْمَرْأَةِ، وَالْوَجْهَ:لَيْسَا بِعَوْرَةٍ، وَمَا عَدَاهُمَا؛ فَفَرْضٌ سَتْرُهُ (صفحه 31)۔يعني، ابن عباس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں  عورتوں کے ہاتھوں کو دیکھا۔ پس ثابت ہوا کہ عورتوں کا ہاتھ اور چہرہ دونوں چھپانے والی چیزیں نہیں ہیں۔ البتہ ان کے سوا جسم کے جو حصے ہیں ، ان کا چھپانا ضروری ہے۔

’’آج کل کی عورتیں زیب و زینت میں  جن بے ہودہ طریقوں تک پہنچ گئی ہیں ان کو دیکھ کر میرا دل پھٹ جاتا ہے۔ مگر ا س کا علاج یہ نہیں ہے کہ وہ چیز جس کو اللہ نے مباح رکھا ہو، اس کو ہم حرام ٹھہرائیں۔‘‘ وہ لکھتے ہیں کہ قرآنی آیات، سنّت محمدی اور آثار سلف کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے تو ا س پر واجب ہے کہ وہ اپنے پورے بدن کو چھپائے اور اپنی زینت کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہونے د ے ، ماسوا وجہ اور کفین (چہرہ اور دونوں ہاتھوں) کے۔

ان کی تحقیق کے مطابق شرائط حجاب حسب ذیل ہیں:

1۔     پورے بدن کو چھپانا اِلاّ وہ جو مستثنیٰ کیا گیا ہو۔

2۔     ایسا حجاب نہ اختیار کیا جائے جو بذات خود زینت بن جائے۔

3۔     لباس باریک کپڑے کا نہ ہو جس سے بدن جھلکے۔

4۔     کشادہ لباس ہو، تنگ نہ ہو۔

5۔     خوشبومیں  بسا ہوانہ ہو۔

6۔     مرد کے مشابہ نہ ہو۔

7۔     کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔

8۔     شہرت کا لباس نہ ہو۔

حجاب کی پہلی شرط کا ماخذ، مصنف کے نزدیک سورہ نور کی آیت 31، اور سورہ احزاب کی آیت 59ہے۔ یہ دونوں آیتیں حسب ذیل ہیں:

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(24:31)۔یعنی، اور کہه دو مومن عورتوں سے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شر مگا ہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوا اس کے جو اس میں  سے ظاہر ہو جائے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوااپنے شوہروں کے یا اپنے باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پریا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر یا ماتحت مردوں پر جن كو كوئي غرض نه هویا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے ابھی ناواقف ہیں اور اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے۔ اور مسلمانو، تم سب اﷲکے سامنے توبہ کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔

دوسری آیت یہ ہے:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا (33:59)۔ يعني، اے نبی کہه دو اپنی بیویوں سے اور اپنی لڑکیوں سےاور مسلمانو ں کی بیویوں سے کہ لٹکا لیا کریں اپنے اوپر اپنی چادریں۔ اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی اورایذانہ دی جائے گی اور اﷲبخشنے والا مہربان ہے۔

سورۂ نور کی آیت کے سلسلے میں  احادیث سے استدلال کرتے ہوئے انھوں نے اس قول کو تر جیح دی ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں  الاَّماَظھَر مِنھاَ سے وجہ اور کفین ( چہرہ اور ہاتھوں) کا استثنا مراد ہے۔

سورۂ احزاب کی آیت کے سلسلے میں  ، مختلف احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں:

فَيُسْتَفَادُ ‌مِمَّا ذَكَرْنَا أَنْ سَتْرُ الْمَرْأَةِ لِوَجْهِهَا بِبُرْقَعٍ أَوْ نَحْوِهِ مِمَّا هُوَ مَعْرُوفٌ الْيَوْمَ عِنْدَ النِّسَاءِ الْمُحْصَنَاتِ أَمْرٌ مَشْرُوعٌ مَحْمُودٌ وَإِنْ كَانَ لَا يَجِبُ ذَلِكَ عَلَيْهَا بَلْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ(صفحہ 3)۔یعنی، جو شواہد ہم نے درج کیے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کا بر قع یا اور کسی چیز سے اپنے چہرے کوچھپانا مشروع اور پسندیدہ ہے۔ اگر چہ وہ اس پر لازم نہیں، اس طریقہ پر عمل کرنا احسن ہے مگر جو عمل نہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔

2۔ حجاب کی دوسری شرط ، مصنف کی تحقیق کے مطابق یہ ہے کہ وہ بذات خود زینت نہ ہو۔قرآن میں  اس کو ’’ تبرج‘‘ کہا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (33:33)۔یعنی، اورتم اپنے گھروںمیں  قرار سے رہواور قدیم زمانہ جاہلیت کے مطابق مت پھر و اور تم نماز قائم کرو اورزکوٰ ۃ ادا کرو اور اﷲ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو۔ اﷲکو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو ہر طرح پاک صاف کرے۔

مصنف کے نزدیک ، اس حکم کا منشایہ ہے کہ عورت اپنی زینت اور محاسن کو اس طرح ظاہر نہ کرے کہ اس سے دیکھنے والوں میں  میلان اور شہوت پیدا ہو۔ وہ لکھتے ہیں:

وَالْمَقْصُودُ مِنَ الْأَمْرِ بِالْجِلْبَابِ إنَّمَا هُوَ سَتْرُ زِينَةُ الْمَرْأَةِ، فَلَا يُعْقَلُ حِينَئِذٍ أَنْ يَكُونَ الْجِلْبَابَ نَفْسَهُ زِينَةً (صفحہ 55)۔یعنی،جلباب لٹکانے کا حکم اس لیے ہے کہ عورت کی زینت کوچھپایا جائے۔ اس لیے نا قابلِ تصور ہے کہ جلباب خود بھی ایک زینت بن جائے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ تبر ج سے بچنے کی اسلام میں  اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کو شرک اور زنا اور سرقہ جیسی حرام چیز وں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں  انھوں نے متعلق

 حد یثیں جمع کر دی ہیں۔

3۔ مصنف کی تقسیم کے مطابق حجاب کی تیسری شرط یہ ہے کہ کپڑا باریک نہ ہو:

فَإِنَّ السَّتْرَ لَا يَتَحَقَّقُ بِهِ وَاَمَّا ‌الشَّفَّافُ فَإِنَّهُ يَزِيدُ الْمَرْأَةَفِتْنَةً وَزِينَةً (صفحہ56)۔یعنی، کیوں کہ اس کی موجودگی میں  پردہ پردہ نہیں ہوسکتا اور باریک کپڑا، جس سے بدن جھلکے ، عورت کے زینت اور فتنہ میں  اضافہ کر تا ہے۔

اس سلسلے میں  انھوں نے مختلف حدیثیں نقل کی ہیں۔ مثلاً:

سَيَكُونُ ‌فِي ‌آخِرِ ‌أُمَّتِي ‌نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ(المعجم الصغير للطبراني، حديث نمبر 1125)۔یعنی،میری امت کے آخری دور میں  ایسی عورتیں ہوں گی جو پہن کر بھی ننگی دکھا ئی دیں گی۔

4۔حجاب کی چوتھی شرط، مصنف کے نزدیک ، یہ ہے کہ کپڑا ڈھیلا ڈھالا ہو۔ اس سلسلے میں  انھوں نے اپنی تا ئید میں مختلف حدیثیں نقل کی ہیں۔ آخرمیں  انھوں نے حضرت  فاطمہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔انھوں نے اس کو ناپسند کیا کہ مرنے کے بعد عورت کو ایسے کپڑے میں  لپیٹا جائے جس سے اس کا عورت ہونا ظاہر ہوتا ہو(حلية الأولياء، جلد 2، صفحه 43)۔ نقل ِروایت کے بعد وہ لکھتے ہیں:

فَانْظُرْ إلَى فَاطِمَةَ بُضْعَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‌كَيْفَ  اسْتَقْبَحَتْ أَنْ يَصِفَ الثَّوْبُ الْمَرْأَةِ وَهِيَ مَيِّتَةٌ، فَلَا شَكَّ أَنَّ وَصْفَهُ إيَّاهَا وَهِيَ حَيَّةٌ أَقْبَحَ وَأَقْبَحَ(صفحہ 63)۔پس دیکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگر گوشہ فاطمہ نے مردہ عورت تک کو ایسے کپڑے میں  رکھنا قبیح قرار دیا جس میں  اس کے نسوانی اعضا ظاہر ہوتے ہوں۔ پھر زندہ عورت کا ایسے لباس میں  ہونا تو اور زیادہ بُرا ہو گا۔

5۔حجاب کی پانچویں شرط یہ ہے کہ کپڑا خو شبو میں  بسا ہوا نہ ہو۔

 ’’ بہت سی احادیث ہیں جو عورت کو اس سے روکتی ہیں کہ وہ خو شبو لگا کر باہر نکلے۔‘‘ پھر چار روایتیں نقل کرنے کے بعد مصنف لکھتے ہیں :

وقالَ ابنُ دقيقِ العيدِ ’’وفيهِ حُرْمَةُ التَّطيُّبِ على مُرِيدَةِ الخُرُوجِ إلى المَسْجِدِ لِمَا فِيهِ مِن تَحْرِيكِ دَاعِيَةِ شَهْوَةِ الرِّجَالِ.‘‘ قُلتُ: فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ حَرَامًا على مُرِيدَةِ المَسْجِدِ فَمَاذَا يَكُونُ الحُكْمُ على مُرِيدَةِ السُّوقِ وَالأَزِقَّةِ وَالشَّوَارِعِ؟ لا شَكَّ أَ   نَّهُ أَشَدُّ حُرْمَةً وَأَكْبَرُ إِثْمًا. وَقَدْ ذَكَرَ الهَيْتَمِيُّ فِي ’’الزَّوَاجِرِ‘‘(2/37)أَنَّ خُرُوجَ المَرْأَةِ مِن بَيْتِهَا مُتَعَطِّرَةً مُتَزَيِّنَةً مِنَ الكَبَائِرِ وَلَوْ أَذِنَ لَهَا زَوْجُهَا(صفحہ 65)۔ابن دقیق نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں  مسجد میں  جانے والی عورت کے لیے خوشبو لگا کر نکلنے کو حرام قرار دیا گیا ہے کیوں کہ اس میں  مردوں کے لیے شہوت کا محرک پایا جاتا ہے۔ میں  کہتا ہوں جب یہ مسجد میں  جانے والی عورت کے لیے حرام ہے تو وہ عورتیں جو بازار اور راستوں اور سڑکوں پر جاتی ہیں ، یقیناً ان کی حرمت اور ان کا گناہ شدید تر ہو گا۔ اور ہیتمی نے لکھا ہے کہ عورت کا معطّر اور مزین ہو کر گھر سے نکلنا گناہِ کبیرہ ہے ، خواہ اس کے شوہر نے اس کی اجازت دی ہو۔

6۔حجاب کی چھٹی شرط یہ ہے کہ لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔ اس سلسلے میں  انھوں نے مختلف روایتیں نقل کی ہیں۔ (صفحه 67) مثلاً:

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‌الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ۔ (صحيح البخاري، حديث نمبر 5885) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کے مشابہ بنیں ، اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کے مشابہ بنیں۔

اس سلسلے میں ا ن کی تحقیق یہ ہے:

أَنَّ اللِّبَاسَ إِذَا كَانَ غَالِبُهُ لُبْسَ الرِّجَالِ نُهِيتْ عَنْهُ المَرْأَةُ، وَإِنْ كَانَ ‌سَاتِرًا (صفحہ 77)۔ یعنی، ایسا لباس عورتوں کے لیے ممنوع ہے جس کا غالب حصہ مردوں جیسا ہو، اگرچہ وہ ساتر ہی کیوں نہ ہو۔

7۔حجاب کی ساتویں شرط یہ ہے کہ لباس کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ بھی شریعت کا ایک عظیم اصول ہے کہ کفّار سے تشبہ نہ اختیار کیا جائے۔ نہ عبادت میں  ، نہ تہواروں میں  ، نہ پوشاک میں  (صفحہ78)۔ قر آن میں  اس کا مجمل حکم ہے۔ مگر سنت میں  اس کی تفصیل موجود ہے۔ اس سلسلہ میں  انھوں نے جن آیات سے استدلال کیا ہے، ان میں  ایک وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ(57:16) ہے۔ يعني، اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی۔اس سلسلے میں  انھوں نے ابن تیمیہ اور ابنِ کثیر کے اقوال نقل کیے ہیں جو کہتے ہیں کہ اس میں  کفار سے تشبہ اختیار کرنے کی معانعت نہی نکلتی ہے۔ (صفحہ 80)

اس کے بعد انھوں نے وہ روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، جنازہ ، روزہ ، حج ، ذبائح ،طعام ، لباس ، آداب و عادات اور مختلف چیزوںمیں  کفّار کی مشا بہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔

8۔حجاب کی آٹھویں شرط یہ ہے کہ عورت کا لباس لباسِ شہرت نہ ہو۔ اس سلسلے کی ایک حدیث یہ ہے(صفحه 110)

مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا، أَلْبَسَهُ اللهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ (مسند احمد، حديث نمبر 5664)جو دنیا میں  شہرت کا لباس پہنے، اللہ اس کو قیامت کے دن ذلّت کا لباس پہنائے گا۔

کتاب کے آخر میں  مصنف نے اپنی تحقیق کا خلاصہ ان الفاظ میں  بیان کیا ہے:

أَن يَكُونَ سَاتِرًا لِجَمِيعِ بَدَنِهَا؛ إِلَّا وَجْهَهَا وَكَفَّيْهَا، عَلَى التَّفْصِيلِ السَّابِقِ، وَأَنْ لَا يَكُونَ زِينَةً فِي نَفْسِهِ، وَلَا شَفَّافًا، وَلَا ضَيِّقًا يَصِفُ بَدَنَهَا، وَلَا مُطَيَّبًا، وَلَا مُشَابِهًا لِلِبَاسِ الرِّجَالِ وَلِبَاسِ الكُفَّارِ، وَلَا ثَوْبَ ‌شُهْرَةٍ (صفحہ 111)۔عورت کالباس اس کے پورے بدن کو ڈھکنے والا ہونا چاہیے سوا چہروں اور دونوں ہاتھوں کے۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا لباس بذات خود زینت بن جائے اور وہ نہ باریک ہو اور نہ تنگ ہو کہ بدن کے اعضا ظاہر ہوں۔ وہ نہ خوشبو لگا ہوا ہو اور نہ وہ مردوں اور کفار کے مشابہ ہو اور نہ وہ لباسِ شہرت ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion