برداشت کا اصول
ایک ہندستانی کہاوت ہے —’’اگر کوئی کتا تمھیں کاٹے تو کیا تم بھی کتے کو کاٹوگے‘‘۔اس چھوٹے سے جملہ میں زندگی کی بڑی گہری حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں انسان کے ساتھ کتے بھی ہیں۔ اس لیے یہاں یہ واقعہ بھی ضرور پیش آئے گا کہ کبھی کوئی کتا انسان کو کاٹ لے۔ مگر اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ آدمی خود بھی کتے کو کاٹنے لگے۔ کیونکہ یہ نہ صرف مسئلہ کو بڑھانا ہے بلکہ اپنے آپ کو کتے کی سطح پر لے جانا ہے۔ اس لیے بہترین بات یہ ہے کہ جب کسی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آئے کہ اس کو ایک کتا کاٹ کھائے تو وہ اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائے۔ اپنے زخم کا علاج کر کے اپنی زندگی کے سفر کو جاری رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام دانش مند لوگوں نے غصہ، دشمنی اور انتقام جیسی چیزوں کو برا کہا ہے اور اس کے بجائے معاف کرنے اور بھلا دینے کو زندگی کی ترقی کا راز بتایا ہے۔ یہاں چند اقوال نقل کیے جاتے ہیں ۔
- بدلہ لینے سے انسان اپنے دشمن جیسا ہو جاتا ہے اور بدلہ نہ لینے سے اس سے بہت زیادہ بہتر (بیکن)۔
- اپنے دشمن کے لیے اپنی بھٹی کو اتنا گرم نہ کرکہ وہ تجھ کو ہی جلا ڈالے (شیکسپیئر)۔
- د شمن کو معاف کر دینا دشمن سے انتقام لینے کا سب سے بہتر طریقہ ہے(مانس ہنس)۔
- ہم خود اپنا برا کیے بغیر دوسروں کا برا نہیں کر سکتے(دیس مہس)۔
- برداشت کرنا زندگی کا ایک اصول ہے، نہ کہ کمزوری (مہاتما گاندھی)۔
- جب دو آدمی آپس میں جھگڑیں تو سمجھ لو کہ دونوں غلطی پر ہیں (ڈچ کہاوت)۔
- کسی سے دشمنی کرنا اپنے ارتقا میں روک لگانا ہے (ونوبا بھاوے)۔
- دشمن کا لوہا بھلے ہی گرم ہو جائے مگر ہتھوڑا تو ٹھنڈا رہ کر ہی کام دے سکتا ہے (سردار پٹیل )۔
- نفسانی خواہشات کا جنون تھوڑی دیر رہتا ہے مگر اس کا پچھتاوا بہت دیر تک (شیلر)۔
- جس نے کسی دشمن کو معاف نہیں کیا وہ زندگی کی ایک عظیم خوشی سے محروم رہا (لیومیٹر)۔
- جہاں غصہ ہے سمجھ لو کہ وہاں تباہی بھی ضرو ر ہوگی (گوسوامی تلسی داس)۔
- اچھے مزاج کی بہترین علامت ہے برے مزاج کو برداشت کر لینا (ایمرسن)۔
ان اقوال میں سے ایک ایک قول زندگی کی گہری حقیقت کو بیان کر رہا ہے۔ پہلی بات یہ کہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی باتوں پر دشمن کو معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ بہادری ہے ۔یہ ایک مثبت عمل ہے۔ جو شخص ہیجانی واقعات پیش آنے کے باوجود لوگوں کو معاف کر دے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ پر قابور رکھنے والا آدمی ہے۔ اور اپنے آپ پر قابو رکھنے سے بڑی کوئی بہادری نہیں۔
پھر یہ کہ انتقام نہ لینا خود بہت بڑا انتقام ہے ، جب کسی کی طرف سے برائی پیش آنے کے باد جو آدمی اس کے خلاف کوئی بری کارروائی نہیں کرتا تو اس کا یہ عمل بے شمار پہلوؤں سے اس کے لیے مفید بنتا ہے۔ اس کو برتر کردار پیش کرنے کی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مسئلہ کو لمبا کرنے کے بجائے وہ وہیں کا وہیں اسے ختم کر دیتا ہے ۔ وہ اپنے وقت اور قوت کو منفی کاروائیوں سے بچا کر اپنی ترقی اور استحکام میں لگاتا ہے، دوسری طرف ایسا کر کے وہ اپنے مخالف کو اس کے اپنے ضمیر کے سامنے رسوا کر دیتا ہے۔ وہ اس کی دشمنانہ نفسیات کو دباتا ہے اور اس کے اندر چھپی ہوئی انسانیت کو ابھرنے کا موقع دیتا ہے ۔ آپ کے ہر ’’دشمن‘‘ انسان کے اندر آپ کا ایک دوست انسان بھی چھپا ہوا ہے۔ اور دشمن کو معاف کرنا دراصل اس بات کی کوشش کرنا ہے کہ اس کے اندر چھپا ہوا آپ کا دوست انسان برآمد ہو جائے۔
ایک آدمی آپ کے ساتھ برائی کرے اور آپ بھی اس کے ساتھ برائی کرنے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اور وہ دونوں برابر ہو گئے ۔ آپ اس سے اچھے جب ہوتے جب کہ آپ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے۔ جب آپ نے بھی وہی کیا جو دوسرے نے آپ کے ساتھ کیا تھا تو آپ میں اور دوسرے میں فرق کیا رہا۔
