حکمرانوں پر اثر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے کا یہ نتیجہ تھا کہ بعد کے دور میں اگرچہ  ’’خلیفہ‘‘ کی جگہ ’’سلطان‘‘ ہونے لگے، مگر جو کچھ بگاڑ آیا وہ محدود معنوں میں صرف سیاسی تھا اور شاہی محلوں کے دائرہ تک محدود رہا۔ عمومی سطح پر مسلم معاشرہ میں بدستور اسلامی زندگی کا تسلسل جاری رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال تک مسلم معاشرہ کسی بڑی خرابی سے پاک رہا۔ مزید یہ کہ اسی عمومی اصلاح کا یہ نتیجہ تھا کہ خود سلاطین اور حکمراں کا بگاڑ بھی ایک حد کے اندر باقی رہا ، وہ حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔

اسی کا یہ نتیجہ تھاکہ خلافت راشدہ کے بعد پورے ہزار سالہ دور میں علماء اور مصلحین بادشاہوں پر کھلم کھلا تنقید کرتے تھے ، وہ ان کے بہت سے احکام کو سرے سے نظرانداز کرتے تھے۔ اس کے باوجود کسی بادشاہ یا حکمراں کو یہ ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ ان کے خلاف کوئی جابرانہ کارروائی کر سکے۔

حضرت عبداللہ بن عمر یزید بن معاویہ کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے آخر وقت تک یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ مگر یزید کو یہ ہمت نہ ہوسکی کہ وہ عبداللہ بن عمر سے جبری بیعت لے یا ان کو قتل کرا دے۔ ہارون الرشید کے ایک معاصر بزرگ نے خلیفہ سے مصافحہ کیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ہارون الرشید نے رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہاکہ یہ ہاتھ کتنے نرم ہیں ، کاش وہ جہنم کی آگ سے بھی محفوظ رہ سکیں۔ اس سخت کلام کے باوجود خلیفہ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ اسپین کا سلطان عبدالرحمن الناصر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے قرطبہ کی جامع مسجد میں گیا۔ وہاں جامع مسجد کے خطیب نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے علی الاعلان سلطان پر تنقید کی۔ مگر سلطان کو یہ ہمت نہ ہو سکی کہ وہ انہیں خطیب کے عہدہ سے معزول کر دے یا ان کی سزا کا فرمان جاری کرے۔

القول الجلی (صفحہ 162) میں بتایا گیا ہے کہ امام ابن تیمیہ قازان کے دربار میں داخل ہوئے جو ایک مسلم سلطان تھا۔ اس نے کھانا پیش کیا۔ دوسرے لوگوں نے اس کو کھایا مگر ابن تیمیہ نے نہیں کھایا۔ قازان نے پوچھا کہ آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا۔ ابن تیمیہ نے جواب دیا کہ میں کیسے تمہارا کھانا کھاؤں جب کہ وہ لوگوں کے اموال کو چھین کر تیار کیا گیا ہے اور غصب کیے ہوئے درخت کی لکڑیوں پر اس کو پکایا گیا ہے۔ وغیرہ۔

ابن تیمیہ کے ساتھی کہتے ہیں کہ جب ابن تیمیہ قازان کے سامنے اس قسم کی تقریر کر رہے تھے تو ان کی بے باکی کو دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ اب وہ ضرور قتل کر دیے جائیں گے۔ چنانچہ ہم اپنے کپڑے سمیٹنے لگے اس خوف سے کہ وہ قتل کیے جائیں اور ہمارے کپڑے ان کے خون سے آلودہ ہو جائیں:وَنَحْنُ ‌نَجْمَعُ ‌ثِيَابَنَا ‌خَوْفًا ‌أَنْ ‌يَقْتُلَ ‌فَيُطَرْطِسُ ‌بِدَمِهِ۔ (مسالك الأبصاررلابن فضل الله العمري، جلد 5،صفحہ 699)

اس غیر معمولی بے باکی کے باوجود قازان کو یہ جرأت نہ ہو سکی کہ وہ ابن تیمیہ کے خلاف ہاتھ اٹھائے۔

مغل شہنشاہ جہانگیر کا واقعہ ہے جس کو مولانا شبلی نعمانی نے نہایت موثرانداز میں نظم کیا ہے اور وہ ’’عدل جہانگیری‘‘ کے عنوان سے ان کے مجموعۂ کلام میں شامل ہے۔ اس واقعے کے مطابق جہانگیری کی محبوب ملکہ نور جہاں نے ایک شخص کو بلاسبب طپنچہ مار کر قتل کر دیا۔ یہ معاملہ شرعی مفتی کے سامنے پیش ہوا۔ علامہ شبلی کے الفاظ میں:

مفتی شرع نے بے خوف و خطر صاف کہا  شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن

مفتی کے اس فتوے کے بعد نور جہاں ، جہانگیر اور تمام درباری اپنے کو بے دست و پا محسوس کرنے لگے۔ بظاہر اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ مقتول کے قصاص میں نور جہاں کو قتل کردیا جائے۔ آخر کار مقتول کے ورثاء دیت لینے پر راضی ہو گئے اور اس طرح نور جہاں کی جان بچ گئی۔

اسلام کی پچھلی ہزار سالہ تاریخ میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ عام طور پر لوگ ان واقعات کو بعض افراد کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں، مگر زیادہ صحیح طور پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ اس طریقہ کے خانے میں جاتا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یعنی حکمرانوں سے ٹکراؤ چھوڑ کر عوامی سطح پر اسلام کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنا۔ بعد کے دور کے علماء اور اہل دین اگر اپنے ہم عصر بادشاہوں کو تخت سے بےدخل کرنے کے لیے ا ن سے سیاسی ٹکراؤ کرتے تو مسلم ملکوں کا وہی انجام ہوتا جو موجودہ زمانے میں ، مثال کے طور پر، مصر اور پاکستان میں نظر آتا ہے۔ ان ملکوںمیں اینٹی حکمراں سیاست کے نتیجےمیں بربادی اور تخریب کاری کے سوا کسی اور چیز کی تاریخ نہ بن سکی۔ جب کہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے کی وجہ سے ایک ہزار سال تک اسلام کی تعمیر اور اس کی اشاعت کا کام نہایت طاقت ور انداز میں جاری رہا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion