چھوٹا شر
حضرت عمر فاروق کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:لَيْسَ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنَ الشَّرِّ، وَلَكِنِ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْنِ (ذم الھویٰ لابن الجوزی، صفحہ 8)۔یعنی، عقل مندوہ نہیں ہے جو یہ جانے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے، بلکہ عقل مندوہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کون سا شر بہتر ہے۔
حضرت عمر فاروق کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کے پاس صرف دو فہرست ہو۔ایک ان چیزوں کی فہرست جو خیر ہیں، اور دوسری ان چیزوں کی فہرست جو شر ہیں،ایسا آدمی عالم تو ہوسکتا ہے مگر وہ عاقل نہیں ہوسکتا۔عاقل یا دانش مند ہونے کے لیے آدمی کو ایک اور چیز سے واقفیت ہونی چاہیے، اور وہ خیرالشرین ہے،یعنی دو شر میں سے بہتر شر۔یہ جاننا کہ دو شرمیں سے کون سا شر نسبتاً کم نقصان والا ہے یا چھوٹی برائی(lesser evil)کی حیثیت رکھتا ہے۔
مثلاً آپ کے گھر کے سامنے کچھ لوگ قابل اعتراض نعرے لگا رہے ہوں تو ایک شر ان کی یہ نعرہ بازی ہے۔ دوسرا امکانی شر یہ ہے کہ اگر آپ انہیں روکیں یا ان سے نزاع کریں تو وہ مزید مشتعل ہوکر فساد برپا کریں گے اور جان و مال کا نقصان پہنچائیں گے۔ اب عقلمند آدمی وہ ہے جو ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر یہ سمجھے کہ دونوں قسم کے شر میں سے کون سا شر بڑا ہے اور کون سا شر چھوٹا۔اور پھر وہ چھوٹے شر کو برداشت کر لےتاکہ اس کو بڑا شر برداشت نہ کرنا پڑے۔
عام آدمی معاملات میں صرف دو چیزوں کو جانتا ہے — خیر کے پہلو کو اور شر کے پہلو کو۔مگر دانش مند آدمی وہ ہے جو شر کو دو قسموں میں تقسیم کرسکے، اور پھر دونوں میں سے جو شر مقابلتاً خیریا بالفاظ دیگر، کم ضرر رساں ہو اس کو گوارا کرلے تاکہ وہ زیادہ بڑے شر سے بچ سکے کے۔
