دو انسان

مسیلمہ کذّاب (12ھ) نجد کے علاقہ میں یمامہ کا رہنے والا تھا۔ اس مقام کو اب جُبیلہ کہا جاتا ہے۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا، اسی لیے وہ کذاب (جھوٹا) کہا جاتا ہے۔ عربی میں مثل ہے::

أَكْذَبُ مِّن مُّسَيْلِمَةَ (جمهرة الأمثال، جلد2، صفحہ 137)۔ یعنی ، مسیلمہ سے بھی زیادہ جھوٹا۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ نے یمامہ جاکر مسیلمہ سے ملاقات کی۔ مسیلمہ نے پوچھا کہ تمہارے صاحب پر حال میں اترنے والی وحی کیا ہے۔ عمرو بن العاص نے کہاکہ آپؐ پر ایک سورہ اتری ہے جو نہایت مختصر اور نہایت بلیغ ہے۔ اس نے پوچھا کہ وہ کیا ہے۔ عمرو بن العاص نے اس کو سورہ العصر سنائی:

وَالْعَصْرِ۔ إِنَّ الْإِنْسانَ لَفِي خُسْرٍ۔ إِلَاّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ وَتَواصَوْا بِالْحَقِّ وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ (103:1-3)۔یعنی، قسم ہے زمانے کی۔  بیشک انسان گھاٹے میں ہے۔ مگر جو لوگ کہ ایمان لائے اور نیک عمل کیا اور انھوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

 اس کو سن کر مسیلمہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد بولا کہ میرے اوپر بھی اسی قسم کا کلام اترا ہے۔ عمرو بن العاص نے پوچھا کہ وہ کیا ہے۔ مسیلمہ نے حسب ذیل الفاظ سنائے:

يَا وَبْرُ يَا وَبْرُ، إِنَّمَا أَنْتِ أُذُنَانِ وَصَدْرٌ، وَسَائِرُكِ ‌حفر ‌نَقْرٌ (تفسير ابن كثير ، جلد4، صفحہ 224)

اس کے بعد اس نے پوچھاکہ اے عمرو، تمہارا کیا خیال ہے۔ عمرو بن العاص نے جواب دیا:خدا کی قسم، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تم کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ مسیلمہ کو معلوم تھاکہ اس کے یہ الفاظ بالکل لغو ہیں۔ مگر اس نے نعوذ باللہ قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے ان کو موزوں کر کے سنایا۔

اب دوسری مثال لیجئے۔ یہ سورہ العصر مکہ میں نازل ہوئی تھی، جب وہ اتری تو بعض صحابہ نے اس کو ایک تختی پر لکھا اور اس کو کعبہ کی دیوار پر آویزاں کر دیا۔ اس کے بعد مختلف لوگوں نے اس کو پڑھا۔ انہیں میں سے ایک لبید بن ربیعہ العامر (41ھ) تھے۔ وہ بھی نجد کے علاقہ کے رہنے والے تھے۔ ان کا شمار اصحاب المعلقات میں ہوتا ہے۔ بعد کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیعت کر کے اسلام قبول کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام سے ان کا پہلا تاثر سورہ العصر کے ذریعہ ہوا تھا، وہ مکہ آئے اور کعبہ کی دیوار پر لکھی ہوئی مختصر سورہ العصر کو پڑھا۔ ان پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ جوش میں آ کر اسی وقت کعبہ کا طواف کرنے لگے۔ آخر میں انہوں نے کہا:وَاللهِ مَا هَذَا مِنْ كَلَامِ الْبَشَرِ(خدا کی قسم، یہ کسی انسان کا کلام نہیں) (السيرة الحلبية جلد، 3، صفحہ 393)۔

اس کے بعد وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ وہ عرب کے ایک ممتاز شاعر تھے۔ مگر انہوں نے شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ شاعری کیوں چھوڑی تو جواب دیا:أَبْعَدُ الْقُرْآنِ (کیا قرآن کے بعد بھی)۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے صرف ایک شعر کہا:تَرَكَ الشِّعْرَ فَلَمْ يَقُلْ فِي الإِسْلَامِ إِلَّا بَيْتًا وَاحِدًا (الأعلام للزركلي جلد5، صفحہ 240)۔

ایک ہی واقعہ ایک شخص کے لیے گمراہی کا سبب بن گیا اور دوسرے آدمی کو اسی سے ہدایت مل گئی۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ اَنانیت ہے۔ مسیلمہ اپنے سینہ میں انانیت لیے ہوئے تھا۔ وہ اپنے کو سب سے بڑا سمجھتا تھا۔ وہ خود اپنی ذات میں گم تھا، اس لیے وہ حق کو دیکھنے سے محروم رہا۔ اس نے اپنے آپ کو جانا، اور اس کی ذات کے باہر جو زیادہ بڑی حقیقت تھی اس کا ادراک کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔

اس کے برعکس معاملہ لبید کا تھا۔ وہ حق کو سب سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کا سینہ خود پسندی سے پاک تھا۔ وہ ذاتی مصالح سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس بنا پر جب حق آیا تو فوراً وہ اس کو پہچان گئے، اور اپنے آپ کو فوراً اس کے حوالے کر دیا۔

اس دنیا میں سب سے بڑا جرم حق کا انکار ہے، اور سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف۔ پہلی چیز آدمی کو جہنم میں لے جاتی ہے، اور دوسری چیز اس کو جنت کا مستحق بنا دیتی ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion