صلاحیتیں اسلام کے کام نہ آسکیں
پروفیسر رشید احمد صدیقی (1977-1896) مولانا اقبال احمد سہیل 1955)-1887) کے ساتھیوں میں سے تھے۔ مولانا سہیل کی علی گڑھ کی تعلیمی زندگی کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں۔
1918یا1919ء کا واقعہ ہے۔ یونین میں ’’ام الالسنہ عربی‘‘ پر پروفیسر خواجہ کمال الدین مرحوم کی اردو میں تقریر تھی۔ مرحوم نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔ مولانا سہیل کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا۔ مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونین میں مجمع دیکھا تو کہا:مولانا تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سنتے چلیں۔ مولانا نے کہا اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھ آئیں گے۔ سب لوگ یونین میں آئے۔ مولانا سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادہ میں ملفوف تھے۔ سر پر اونی کنٹوپ تھا۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس پر ایک ہرے رنگ کا چھجا(شیڈ) لگا ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے کم و بیش دو گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محو حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو پریسیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل فاضل مقرر کا طلبائے کالج کی طرف سے شکریہ ادا کریں گے۔ مولانا کے خلاف سازش کامیاب ہوئی۔ دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈائس پر پہنچا دیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میز کے پاس کھڑے کیے گئے۔ تھوڑی سی ناک، اس سے ذرا بڑی تھوڑی اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ مولانا نے بے تکلف تقریر شروع کر دی۔ اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی مبحث پر تیاری کی تھی۔ جو لوگ یونین کے مجمع سے واقف ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لیے کوئی نہیں ٹھہرتا اور صدر کا شکریہ بھی اسی بدنظمی کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ مولانا سہیل نے بھی’’ام الالسنہ عربی‘‘ پر تقریر شروع کی۔ پون گھنٹہ تک تقریر کی۔ نئے نئے پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی۔ نئی نئی مثالیں پیش کیں۔ تقریر کو اس درجہ دل نشین اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنا دیا کہ خواجہ کمال الدین نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے سے لگا لیا اور فرمایا:’’تمہارے ایسا جامع کمالات ساتھ کام کرنے والا مل جائے تو میں اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کر دوں‘‘(مضامین رشید، صفحہ43)۔
مولانا اقبال احمد سہیل ایم اے، ایل ایل بی غیر معمولی ذہین آدمی تھے۔ اردو کے علاوہ ان کو عربی، انگریزی اور فارسی پر بے پناہ قدرت حاصل تھی۔ ان کے دو شعر یہ ہیں:
اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اس ہستی کو باطل کر کہ دانہ بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر
اے کاروان ملت اٹھ تو بھی گام زن ہو ہر سمت سے صدائیں آتی ہیں طرقو کی
اسلامی دعوت کا کام وہ انتہائی اعلیٰ معیار کے ساتھ کر سکتے تھے۔ مگر ان کی تمام صلاحیتیں شاعری اور وکالت کی نذر ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانہ میں اس طرح کے کتنے لوگ ہیں جو فطرت سے اعلیٰ درجہ کی صلاحیت لے کر پیدا ہوئے۔ مگر ان کی اعلیٰ صلاحیتیں اسلام کے کام نہ آسکیں۔ وہ سطحی چیزوں کے پیچھے لگے رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے گئے۔
