دعوتی ذہن
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں قرآن (Quran) پر مفصل مقالہ ہے۔ اس کے آخر میں قرآنی تراجم کی تفصیل ہے۔ عجیب بات ہے کہ فارسی ، ترکی اور اردو میں تو مسلمانوں نے قرآن کے ترجمے کیے۔ یہ زبانیں مسلمانوں کی زبانیں تھیں ۔ مگر دوسری زبانوں میں قرآن کے ترجمے عرصہ درازتک صرف غیرمسلم کرتے رہے۔
لاتینی زبان میں پہلا ترجمہ 1143 میں کیا گیا۔ یہ ترجمہ ایک عیسائی پادری نے کیا۔ اسی طرح اطالوی، جرمن، ڈچ، فرانسیسی وغیرہ زبان میں بھی ابتدائی ترجمے عیسائیوں اور یہودیوں نے کیے۔ انگریزی میں بھی پہلا ترجمہ الگزینڈرر اس نے کیا، وغیرہ۔ عیسائیوں کے بعد انگریزی میں جس شخص نے پہلا ترجمہ کیا وہ ایک قادیانی تھا۔ بعد کو دوسرے کچھ مسلمانوں کے ترجمے شائع ہوئے۔ زیادہ تر اس جذبہ کے تحت کہ دوسروں نے غلط ترجمہ کیا ہے ، اس کو صحیح کیا جائے۔
اس کی وجہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہ ہونا ہے۔ ہمارے علما ومفسرین زیادہ سے زیادہ یہ سوچ سکے کہ غیر عربی داں مسلمانوں کے لیے قرآن کا ترجمہ تیار کریں ۔ یہ بات ان کے ذہنی دائرہ سے باہر رہی کہ غیر مسلم اقوام کے لیے ان کی اپنی زبانوں میں قرآن کے ترجمے تیار کر کے شائع کیے جائیں تاکہ وہ اسلام سے واقف ہوں ۔ (ڈائری، 30 ستمبر 1984)
