ایک اقتباس
ریاض کے عربی ماہنامہ الفیصل ( ذو القعدہ 1413 ھ، مئی 1993) میں ایک مضمون بعنوان الْأَطْفَالُ قَلْبِي شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں اسرائیل کے سابق وزیر جنگ موشے دایان (1981-1915) کا ایک تبصرہ اپنے حریف عربوں کے بارے میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ تبصرہ عربی حوالہ میں اس طرح ہے:
’’يَمِيلُ الْعَرَبُ إلَى خِدَاع أَنْفُسِهِمْ وَخِدَاع غَيْرِهِمْ، وَهُمْ يَقُومُونَ بِذَلِكَ عَنْ غَيْرِ عَمَدٍ فَهُمْ يَمِيلُون دَائِمًا إِلَى التَّحَدُّثِ عَنْ أَمْجَادِ الْأَجْدَادِ، عَنْ صَلَاحِ الدِّينِ، عَنْ مَعَارِك حِطِّيْنَ وَالْيَرْمُوكَ، وَبَيْنَمَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَإِنَّنَا نَبْتَسِمُ لِأَ نَّهُمْ يَرَوْنَ أَنْفُسَهُمْ فِي مِرْأٓةِ أَمْجَاد الْمَاضِي، أَمَّا نَحْنُ فَنَرَاهُمْ فِي مِرْأٓةِ الْحَاضِر، لَيْتَهُمْ يَسْأَلُون أَنْفُسَهُمْ لِمَاذَا يَتَحَدَّثُون دَائِمًا عَنْ عُظَمَاءِ مَاضِيهِم وَلَا يَجِدُونَ فِي حَاضِرِھم أَحَدًا مِنْ الْعُظَماءِ يَتَحَدَّثُونَ عَنْه؟‘‘ یعنی، عرب اپنے آپ کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ اور ایسا وہ کسی قصد و ارادے کے بغیر کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے اجداد کی بڑائی کا چرچا کرتے ہیں صلاح الدین کا اور حطین اور یرموک کے معرکوں کا۔ اور جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم ان پر ہنس پڑتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنے آپ کو ماضی کی بڑائی کے آئینہ میں دیکھتے ہیں اور ہم ان کو حال کے آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ کاش وہ اپنے آپ سے پوچھتے کہ کیوں وہ ہمیشہ اپنے ماضی کے بڑوں کی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے حال میں کوئی بڑا نہیں پاتے جس کی وہ بات کریں (صفحہ3)۔
یہ معاملہ صرف عربوں کا نہیں، بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا یہی حال ہے ۔ آج ہر جگہ کے مسلمان اپنے گزرے ہوئے بڑوں کے تذکرہ پر جی رہے ہیں۔ حالانکہ گزرے ہوئے سورماؤں کے تذکرہ میں جینا اپنے لیے افیون ہے اور اغیار کے لیے مضحکہ کا ایک سامان۔
صحیح اور مفید بات یہ ہے کہ خود اپنا احتساب کیا جائے ۔ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو معلوم کر کےان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ پچھلے بڑوں کا چرچا کر کے خوش ہونا آدمی کو صرف جھوٹے بھرم میں مبتلاکرتا ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے، نہ کہ وقت کا کوئی استعمال ۔
موشے دایان کا یہ جملہ بہت با معنی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو اپنی ماضی کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور ہم ان کو ان کے حال کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ اسی بات کو ایک مغربی مبصر نے اس طرح بیان کیا کہ مسلمانوں کا کیس موجودہ زمانے میں پیرانوئیا (paranoia) کا کیس بن گیا ہے۔
پیرا نوئک کیرکٹر وہ ہے جو پدرم سلطان بود کی نفسیات میں جینے لگے ۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنے بارے میں فخر میں مبتلا رہتے ہیں۔ مگر دوسرے لوگوں سے انھیں اس کے خلاف تجربہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسرے لوگ ان کو ان کے حال کے مطابق دیکھتے ہیں اور ان کے حال کے اعتبار سے ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگ نفرت اور جھنجلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ لوگ ہماری حیثیت کے مطابق ہمارا اعتراف نہیں کر رہے ہیں ۔
گزرے ہوئے لوگوں کی بڑائی میں جینا، اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف ہلاکت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس میں بیک وقت دو بڑے نقصانات چھپے ہوئے ہیں ۔
ایک یہ ہے کہ جو لوگ اس نفسیات میں مبتلا ہوں وہ خود فکری اور خود عملی کی صلاحیت کھودیتے ہیں۔ ان کی سوچ پچھلوں کی سوچ کے دائرے میں چلتی ہے۔ وہ پچھلے لوگوں کے کارناموں کا مبالغہ آمیز تذکرہ کرنے کو عمل کا قائم مقام سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی خود عمل کرنےوالے نہیں بن سکتے۔ دوسر انقصان یہ ہے کہ دوسرے لوگ جن کے درمیان انھیں جینا ہے ، ان کے بارے میں وہ نہایت خلاف واقعہ رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہ دوسرے لوگ چونکہ انھیں ان کے حال کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اس لیے وہ انھیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ دوسروں کا یہ رویہ اگر چہ تمام تر حقیقت پر مبنی ہوتا ہے لیکن بزرگوں کے قصوں میں جینے والے لوگ اس کو اپنے سے کم تر سمجھ لیتے ہیں ، اس لیے وہ خلاف واقعہ طور پر یہ یقین کر لیتے ہیں کہ دوسرےلوگ سب کے سب ان کے دشمن ہیں ۔
ایسے لوگ یا تو عمل نہیں کرتے۔ یا اگر وہ عمل کرتے ہیں تو ان کی منصوبہ بندی ہمیشہ اس مفروضہ پر ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ سب کے سب ان کے حق میں ظالم اور متعصب ہیں۔ ایسی منصوبہ بندی مبنی بر حقائق نہیں ہوتی، اور جو منصوبہ بندی مبنی بر حقائق نہ ہو ، اس کے لیے خدا کی اس محکم دنیا میں کامیاب ہونا بھی مقدر نہیں۔
