جاننا کافی نہیں
بو علی سینا ( 430-370ھ) بڑے عالم فاضل شخص تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ اپنے زمانہ کے ایک بزرگ شیخ ابو الخیر سے ملے اور ان کےیہاں چند دن گزارے۔ بو علی سینا واپس جانے لگے تو انہوں نے شیخ ابو سعید ابوالخیر کی خدمت میں رہنے والے ایک شخص سے کہا:آج میں یہاں سے جا رہا ہوں ۔ تم ایسا کرنا کہ میرے بعد شیخ میرے بارے میں جو کچھ کہیں وہ تم ایک خط میں لکھ کر میرے پاس بھیج دینا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شیخ کا خیال میرے بارے میں کیا ہے۔
بو علی سینا کی واپسی کو کئی دن گزر گئے مگر شیخ ابو سعید ابو الخیر نے ان کے بارے میں کوئی بات نہ کہی۔ اچھا یا برا کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔ بالآخر کئی دن کے انتظار کے بعد مذکورہ شخص نے شیخ سے سوال کیا کہ حضرت ، آپ کے پاس بو علی سینا آئے تھے ، وہ آپ کی نظر میں کیسے آدمی ہیں۔ شیخ ابو سعید ابو الخیر نے جواب دیا کہ وہ ایک اچھے حکیم ہیں اور ان کے پاس بہت علم ہے۔ مگرہ وہ مکارم اخلاق نہیں رکھتے۔
مذکورہ شخص نے شیخ ابو سعید ابو الخیر کا یہ تبصرہ ایک کاغذ پر لکھا اور اس کو بو علی سینا کے پاس بھیج دیا۔ بو علی سینا نے اس کو پڑھا تو ان کو بڑا جھٹکا لگا۔ انہوں نے مذکورہ شخص کو اس کا جواب لکھ کر بھیجا۔ اس جواب میں انہوں نے یہ لکھا کہ مجھے تمھاری تحریر پر تعجب ہے۔ میں نے مکار م اخلاق پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں ۔ پھر شیخ میر ے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں مکارم اخلا ق نہیں جا نتا۔ مذکورہ شخص نے بو علی سینا کا یہ جواب شیخ ابو سعید ابو الخیر کو بتایا۔ وہ اس کو سن کر مسکرائے اور کہا
من اين نگفتم كه مكارم اخلاق نداند، گفته ام كه ندارد(فوائد الفواد، صفحہ451)۔ یعنی، میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ مکارم اخلا ق نہیں جانتے ، میں نے یہ کہا کہ وہ مکارم اخلاق نہیں رکھتے۔
ایک چیز ہے ’’جاننا ‘‘ اور ایک چیز ہے ’’ہونا‘‘۔ جاننا ذہن اور حافظہ کی سطح پر ہوتا ہے۔ اور ہونا آدمی کے پورے وجود کی سطح پر۔ جاننے والا آدمی صرف جانتا ہے اور ہونے والا آدمی خود اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ جاننا بہت آسان ہے۔ کوئی بھی شخص پڑھ کر اور سیکھ کر دین و اخلاق کی باتوں کو جان سکتا ہے۔ مگر ہونا اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ ہونے کے لیے آدمی کو اپنے آپ کو پیس ڈالنا پڑتا ہے۔ کیونکہ پسا ہوا سفوف ہی پانی میں گھلتا ہے نہ کہ جمے ہو ئے ٹکڑے۔ مگر اصل اہمیت اعتبار کی ہے۔ اور حقیقت کی دنیا میں جو کچھ اعتبار ہے، وہ ہونے کا ہے، نہ کہ جاننے کا۔
جس جاننے کے ساتھ ہو نا نہ ہو ، حقیقت کی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔
)الرسالہ، ستمبر 1981(
