طلاق کی دوصورتیں

عملی اعتبار سے طلاق کی دوصورتیں ہیں۔ ایک وقتی جذبے کے تحت طلاق ، دوسری مستقل فیصلہ کے تحت طلاق۔ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔

خاندانی زندگی میں  ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تلخیاں اور ناخوش گواریاں پیش آتی ہیں۔ یہ تلخیاں اور ناخوش گواریاں اجتماعی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ان کو کسی حال میں  بھی اجتماعی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ ناخوش گواریاں جب سامنے آتی ہیں تو سمجھ دار آدمی صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یا سخت الفاظ بول کر اپنے دل کے طوفان کے لیے نکاس (outlet) کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ اس طرح خاندانی زندگی میں  کوئی واقعی پے چیدگی پیدا ہونے نہیں پاتی۔

مگر نا دان یا جھوٹے پندار میں  مبتلا ہونے والے لوگ نہ صبر کرپاتے اور نہ سخت الفاظ بول کر ان کے دل کو تسکین ہوتی ہے۔ وہ اپنے غصہ کے مکمل اظہار یا فریق ثانی کو آخری سزا دینے کے لیے فوراً کہہ بیٹھتے ہیں — تم کو طلاق، طلاق، طلاق۔ اس قسم کی طلاق درحقیقت غیظ وغضب کے اظہار کی انتہائی صورت ہے جو ان لو گوں کے اندر ظاہر ہوتی ہے جو اپنے جذبات کو تھا منے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ مسٹر قریشی کا واقعہ جوا خبارات میں  آیا تھا وہ اسی کی مثال ہے(ديكھيے، زیر نظر كتاب كا صفحه 230)۔ اگر وہ وقتی نہ ہوتا تو مسٹر قریشی نادرہ بیگم کو دو بارہ اپنی زوجیت میں  لینے کا ارادہ ظاہر نہ کرتے۔ ( ٹائمس آف انڈیا، یکم مئی 1986)

اسلام کا مقر ر کر دہ طریقِ طلاق اس برائی کو روکنے کی انتہائی کا میاب فطری تدبیر ہے۔

اسلام کا یہ طریقہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے:

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (2:229)۔يعني، طلاق دوبارہے۔ پھر یا تو معروف کے مطابق عورت کو روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے اس کو رخصت کردیناہے۔

أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ:يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ، فأين الثالثة؟ قال: فَإِمْساك بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ، هِيَ الثَّالِثَةُ (مصنف ابن ابي شيبه، حديث نمبر 19216)۔ يعني، ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اﷲ نے طلاق کی آیت میں  دوبار کا ذکر کیا ہے۔ پھر تیسری بار کہاں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ معروف كے ساتھ روك لينا يا احسان کے ساتھ رخصت کرنا یہی تیسرا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کے دل میں  اپنی بیوی کو طلاق دینے کا خیال آئے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ ایک ہی بار آخری طلاق دے کر اسے رخصت کردے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ طلاق دینے کے عمل کو تین مہینے کی مدت میں  مکمل کرے۔ طلاق دینے والے کو چاہیے کہ وہ الگ الگ دوطہر (پاکی) میں  دومرتبہ طلاق دے۔ اور پھر تیسری طُہر میں  یا تو رجوع کرے۔ اور اگر وہ رجوع کرنا نہیں چاہتا تو تیسری بار طلاق دے کر اسے رخصت کردے۔

اگر آدمی کے دل میں  طلاق دینے کا خیال اس وقت آیا ہو جب کہ عورت حیض کے ایام سے گزررہی ہو تو اس وقت طلاق دینا درست نہیں۔ مرد کو انتظار کرنا چاہیے کہ عورت حیض سے فارغ ہو کر معتد ل حالت میں  آجائے جس کو پاکی کا دور یا طہر کہا جاتاہے۔ اس وقت آدمی اپنی عورت سے کہے کہ میں  تم کو ایک طلاق دیتا ہوں۔ اس کے بعد بھی عورت اس کے گھر میں  رہے گی اور مرد دوسرے طُہر کا انتظار کرے گا۔ اگلے مہینہ جب دوسرے طُہر کا زمانہ آئے تو اس وقت مرد کہے کہ میں  تم کو دوسری بارطلاق دیتا ہوں۔ اب پھر مرد اگلے مہینہ کے زمانہ طُہر کا انتظار کرے۔ تیسرے مہینہ میں  جب طُہر کا زمانہ آجائے اس وقت مرد یا تو اپنے سابقہ طلاق کو واپس لے اور عورت کو دوبارہ اپنی بیوی بنا لے یا تیسری بار طلاق دے کر اسے عزت کے ساتھ رخصت کردے۔

طلاق بذات خود اسلام میں  سخت ناپسند یدہ ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض حلال طلاق ہے:‌أَبْغَضُ ‌الْحَلَالِ ‌إِلَى ‌اللهِ الطَّلَاقُ (سنن ابوداؤد،حديث نمبر2178)۔ اس کے بعد اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ ایک ہی وقت میں  تین طلاق دیدے تو یہ حد درجہ سرکشی کی بات ہے۔ شریعت میں  اس کو بے حد براقرار دیا گیا ہے۔ حضرت عمر کے بارے میں  مروی ہے کہ جب ان کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو بیک وقت تین طلاق دی ہوتو وہ اس کی پیٹھ پر کوڑا مارتے تھے:

وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ‌أَوْجَعَ ‌ظَهْرَهُ۔ (سنن سعيد بن منصور،جلد1، صفحه 302)

جو شخص نکاح و طلاق کے معاملہ میں  اسلام کے اصول پر چلنا چاہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ مذکورہ اصول کی پابندی کرے۔

تین طُہرمیں  طلاق دینے کا یہ طریقہ حد درجہ فطری اور مناسب ہے۔ اس طریقہ میں  وہ تمام طلاق اپنے آپ ختم ہوجاتے ہیں جو وقتی جذبہ کے تحت پیدا ہوئے ہو ں۔ غصہ اور جوش میں  اگر آدمی کے اندر طلاق کا ارادہ پیدا ہوگیا ہو تو وہ ایک مہینہ یادو مہینہ میں  اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ ذہن میں  اعتدال آتے ہی آدمی اپنے پچھلے جذبہ پر پچھتا ئے گا۔ اور اس سے رجو ع کرکے اپنی بیوی سے دوبارہ تعلقات درست کرلے گا۔

البتہ اگر طلاق کا سبب بہت زیادہ بنیادی ہو اورآدمی نے سوچ سمجھ کرعلاحدگی کا فیصلہ کیا ہوتو وہ دو مہینہ گزرنے کے بعد بھی اپنے فیصلہ پر باقی رہے گا۔ اس کے بعد جب تیسرے مہینہ وہ آخری بار جدائی کا اعلان کرے گا تو وہ حقیقی جدائی ہوگی۔ وہ مصنوعی جدائی نہ ہوگی جس پر آدمی ساری عمرافسوس کرتا رہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion