مقصد کی حفاظت
قرآن کی سورہ نمبر22 میں ارشاد ہوا ہے:اور ہم نے ہرامت کے لیے ایک طریقہ مقرر کیاکہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے۔ پس اس معاملہ میں تم سے نزاع نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو (22:67)۔
وہ تم سےنزاع نہ کریں،کامطلب یہ ہےکہ تم ان کونزاع کاموقع نہ دو۔فریق ثانی سے نزاع میں پڑنے کی قیمت یہ ہے کہ دعوت کا موضوع بدل جائے۔ اس کے برعکس، نزاع سے اعراض کا یہ فائدہ ہے کہ دعوت کا اصل نکتہ دونوں کے درمیان زیربحث رہے۔ داعی کے مفاد میں یہ ہےکہ امررب دونوں فریقوں کے درمیان مکالمہ (dialogue) کا موضوع ہو، نہ کہ امرغیررب۔ باہمی مکالمہ کو اصل نکتہ سے ہٹنے نہ دینا داعی کے مفاد میں ہے، اس لیے داعی کویہ قیمت دینا ہے کہ وہ یک طرفہ اعراض کے ذریعہ اس موافق صورت حال کو برقرار رکھے۔
مولانا محمد الیاس صاحب (بانی تبلیغی جماعت) اپنی تحریک کے ابتدائی زمانے میں میوات گئے۔ ایک دیہاتی اپنے کھیت کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ مولانا نے اس سے کلمہ پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ دیہاتی اس قسم کی بات سے مانوس نہ تھا۔ وہ غصہ ہو گیا اور مولانا کو ڈھکیل دیا۔ مولانا زمین پرگرپڑے۔اس کےبعدمولاناخاموشی کےساتھ دوبارہ اٹھے اور کسی بھی شکایت کےبغیرانہوں نےدیہاتی سےکہاکہ میں بھی کلمہ پڑھتاہوں اورتم بھی اس کودہراؤ۔
مولانا محمد الیاس صاحب کی یہ مثال مذکورہ معاملہ کواچھی طرح واضح کرتی ہے۔ مولانا الیاس صاحب اگر مذکورہ دیہاتی کی غلط روش کی شکایت کرتے تو موضوع گفتگو بدل جاتا۔ انہوں نے اس کی اس روش کویکسرنظر انداز کیا تاکہ دونوں کے درمیان صرف دین ہی موضوع بحث رہے، کوئی غیرمتعلق چیز اس میں حائل نہ ہوسکے۔
اس طرح کے معاملے میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ فریق ثانی کی زیادتیوں کو اہمیت دینا اور اس کے خلاف شکایت واحتجاج کرنا۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی زیادتی کو نظر انداز کیا جائے اور اس کو صبر و اعراض کے خانے میں ڈال دیا جائے۔ پہلی روش کا نقصان یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان موضوع بحث بدل جاتا ہے۔ جب کہ دوسرے طریقہ کا فائدہ یہ ہے کہ موضوع بحث کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا۔ اصل قابل بحث نکتہ ہی دونوں کے درمیان بلاانقطاع بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔
