علم اور خاتون
مشہور حدیث ہے کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجہ،حديث نمبر224)۔يعني علم کو حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔بظا ہر اس حدیث میں صرف مسلم کا لفظ ہے، مسلمہ کا لفظ نہیں ہے۔ مگر علم کا حصول مسلم خواتین پر بھی فرض ہے۔ محدثین نے صراحت کی ہے کہ اس حدیث میں ’’ مسلمہ‘‘ کا لفظ بھی تبعاً شامل ہے۔
رجال اور طبقات کی کتابوں میں مردوں کی طرح عورتوں کی علمی خدمات کے تذکرے موجود ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دوراوّل میں خواتین کے درمیان علم کا کافی رواج تھا۔ امام بخاری (وفات 870ء)نے چودہ سال کی عمر میں علم کے لیے سفر کیا تو وہ اس قابل ہوچکے تھے کہ بڑے بڑے اساتذہ سے استفادہ کرسکیں۔ ان کے اندر یہ استعداد ان کی والدہ اور ان کی بہن نے پیدا کی تھی۔ امام ابن جوزی (وفات 1201ء)کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کو ابتدائی تعلیم اپنی پھوپھی سے ملی۔ مسلم مورخ اور طبيب ابن ابی اصیبعہ (وفات 1270ء)کی بہن اور بیٹی علم طب کی ماہر تھیں اور آج کل کی زبان میں ’’ لیڈی ڈاکٹر‘‘ تھیں۔ امام ابن عسا کر (وفات 1176ء) نے فن حدیث کی تعلیم جن اساتذہ سے حاصل کی ان ميں ایک سے زیادہ خواتین کے نام بھی آتے ہیں۔
دوراوّل میں علمی سر گرمی سب سے زیادہ احادیث اور آثا ر کی روایت کا نام ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کے ساتھ صحابیات اور مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی کثرت سے احادیث کو محفوظ کرنے اور بیان کرنے کا کام کیا ہے۔ حضرت عائشہ نے جس طر ح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیے ہوئے بہت سے علوم امت کو منتقل کیے۔ اسی طرح اس زمانہ میں بہت سی خواتین ہیں، جنھوں نے اپنے والدین اور اپنے ان رشتہ داروں سے روایات بیان کی ہیں، جنھوں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا آپ کے اصحاب سے علم دین کی کوئی بات پائی تھی۔ ان خواتین نے اپنے رشتہ کے اہل علم سے اسلامی تعلیمات کو سکیھا اور ان کو دوسروںتک پہنچایا۔
