خلاف زمانہ روش
موجودہ زمانےکےمسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر ایک قسم کی خلاف زمانہ روش (anachronistic attitude) میں مبتلا ہو گئے۔ جن قدیم شخصیتوں کے وہ ذہنی مقلد بنے ہوئے تھے ان کے یہاںپُر امن طریق کار یا پُر امن جد و جہد کا تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ تصور قرآن و سنّت میں واضح طور پر موجود تھا مگر براہ راست قرآن و سنّت سے حکم اخذ کرنے کے لیے اجتہاد در کار تھا اور انہوں نے پہلے ہی اجتہاد کا دروازہ اس طرح بند کر دیا تھا کہ ایک صاحب کے بقول اب اس کی کنجی بھی گم ہو گئی تھی۔
قرآن میں فطرت کا ایک ابدی قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے’’:الصُّلْحُ خَيْرٌ‘‘(4:128)۔ یعنی ٹکراؤ کے طریقہ کے مقابلے میں مصالحانہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ یہ واضح طور پر تشدّد کے مقابلے میں عدم تشدّد کی اہمیت کی تعلیم ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر، 2593)۔ یعنی، اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متشد دانہ طریق کار کے مقابلے میں پر امن طریق کار زیادہ نتیجہ خیز ہے۔
پر امن طریق کار (peaceful method) کے حق میں قرآن و سنّت میں اس قسم کی واضح تعلیمات موجود تھیں۔ مگر دور جدید کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر ان کو دریافت نہ کر سکے ، وہ تشدّد کی چٹان سے بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکراتے رہے اور بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ وہ قربانی اور شہادت کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔
اس مقلدانہ ذہن نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بے شمار نقصانات پہنچائے اور فائدہ کچھ بھی نہیں دیا۔ مثال کے طور پر فلسطین کے عربوں کو اگر یہ راز معلوم ہو تا تو وہ 1948 کے بعد اپنی تباہ کن مسلح جد و جہد نہ چھیڑتے بلکہ وہ پر امن طریق کار کو استعمال کرتے ہوئے جدید امکانات سے فائدہ اٹھاتے۔ اس کے بعد فلسطین میں ان کو مزید اضافے کے ساتھ وہی پُرعظمت حیثیت حاصل ہو جاتی جو اسی اصول کو استعمال کر کے یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہوئی ہے۔
اسی طرح کشمیر کے مسلمان اگر اس قیمتی راز سے واقف ہوتے تو وہ کشمیر میں گن کلچر اور بم کلچر نہ چلاتے بلکہ اس کے بجائے وہ پیس کلچر چلاتے۔ وہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے جدید امکانات کو استعمال کرتے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندستان میں ایسی با عظمت حیثیت حاصل کر لیتے جو نام نہاد آزاد کشمیر کے مقابلے میں ان کے حق میں100 گنا زیادہ بہتر ہوتی۔اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلم رہنما جو مختلف مسلم ملکوں میں ’’لڑ کر اقتدار کی کنجی‘‘ چھیننے میں مشغول ہیں، اور اپنے ملکوں کو صرف تباہی میں اضافے کا تحفہ دے رہے ہیں ، وہ اگر پُرامن طریق کار کی اہمیت کو جانتے تو وہ اپنے ملکوں کو اب تک اسلامی چمنستان بنا چکے ہوتے۔ جیسا کہ سیکولرزم کا عقیدہ رکھنے والوں نے اس اصول کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ملکوں میں انجام دیا ہے، مثال کے طور پر سنگاپور ،وغیرہ۔
