پُرامن طریق کارزیادہ بہتر
ایک روایت میں بتایاگیاہےکہ معاملات میں پیغمبراسلام کی پالیسی کیاتھی۔اس روایت کےالفاظ یہ ہیں:مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر3367)۔ یعنی، رسول اللہﷺکوجب بھی کسی معاملے میں دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان ترانتخاب کرتےتھے۔
اختیار ایسر کے اصول کواگرمتشدّدانہ طریق کاراورپُرامن طریق کار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبرکا طریقہ یہ تھاکہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اس سے نپٹنے کے لیے متشدّدانہ طریق کار کو اختیار نہ کیا جائے بلکہ پُرامن طریق کار کو اختیار کیا جائے۔ کیوں کہ متشدّدانہ طریق کاریقینی طورپرمشکل ہےاورپُرامن طریق کاریقینی طور پر آسان۔
تاہم یہ سادہ طورپرصرف آسان اورمشکل کامعاملہ نہیں۔بلکہ اس کامطلب یہ ہےکہ معاملات میں پُرامن طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیزہوتاہےاورمتشدّدانہ طریقہ یقینی طورپربےنتیجہ ہے۔وہ مسئلہ کوحل نہیں کرتاالبتہ اس میں کچھ اوراضافہ کرکے اس کومزیدپیچیدہ بنا دیتا ہے۔ حدیث میں مشکل طریقہ سےمرادوہ طریقہ ہےجس کےذریعہ مقصدکاحصول مشکل ہو۔ اس کےمقابلے میں آسان سےمرادوہ طریقہ ہےجس کےذریعہ مقصدکاحصول آسان اور یقینی ہو۔
