تاریخ کا سبق

750ء میں عباسیوں نے بنوامیہ سے خلافت چھین لی اور عباسی خلافت کی بنیاد ڈالی۔ عباسی لیڈر یہ کام صرف اپنی طاقت سے نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے ایرانیوں کی مدد لی۔ ایرانیوں کی مدد سے بنو امیہ کی سلطنت ختم ہوئی اور بنو عباس کی سلطنت قائم ہوئی۔ انہوں نے دمشق کو چھوڑکر بغداد کو اپنا سیاسی مرکز بنایا۔

ایرانیوں سے مدد لینا صرف ایک وقتی معاملہ یا سادہ واقعہ نہیں تھا۔ اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر یہ ہوا کہ مسلم سماج اور مسلم سیاست دونوں میں ایرانیوں کا نفوذ بہت بڑھ گیا۔ بنو امیہ کے زمانہ میں حکومت کی پالیسی تعریب (Arabicization) کے اصول پر چل رہی تھی، اس کے جلو میں اسلامائزیشن کا عمل جاری تھا۔ مگر عباسی اقتدار میں ایرانیوں کے زیر اثر تفریس (Persianization) کا عمل جاری ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں بے شمار مسائل پیدا ہو گئے جس کے گہرے اثرات آج تک باقی ہیں۔

ایک مؤرخ کے الفاظ میں ، عباسیوں کے ماتحت اسلامی خلاف ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی۔ بنوامیہ کے زمانہ میں توجہ کا مرکز مغرب، شمالی افریقہ، میڈیٹرینین اور جنوبی یورپ تھا۔ مگر اب اسلامی خلافت نے اپنی توجہ مشرق کی طرف موڑ دی:

Under the Abbasids the caliphate entered a new phase. Instead of focusing, as the Umayyads had done, on the West—on North Africa, the Mediterranean, and relations with southern Europe—the caliphate now turned eastward. (Encyclopedia Britannica, Vol.  1, p. 7)

اس معاملہ کی سنگینی اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب یہ سوچا جائے کہ عباسی خلفا اگر بنوامیہ کے خلاف اپنی مہم میں پوری طرح کامیاب ہو جاتے تو اسلامی تاریخ میں اس شاندار باب کاسرے سے وجود ہی نہ ہوتاجس کو ’’مسلم اسپین‘‘ کہا جاتا ہے۔

عباسی خلفا نے نہ صرف یہ کیا کہ مغربی ممالک کی طرف اپنی توجہ کم کر دی۔ بلکہ وہ ان امویوں کے جانی دشمن بن گئے جو ان سے پہلے یہ کام کر رہے تھے۔ انہوں نے اموی خاندان یا اموی سلطنت سے تعلق رکھنے والے ایک ایک شخص کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اموی دور میں اگر اسپین کی طرف پیش قدمی شروع نہ ہو چکی ہوتی اور اموی شہزادہ عبدالرحمٰن الداخل اگر جان بچا کر اسپین پہنچنے میں کامیاب نہ ہوا ہوتا تو اسلامی تاریخ میں مسلم اسپین اور یورپ میں اسلام کے داخلہ کا باب شاید سرے سے حذف ہو جاتا۔

یہی معاملہ ایک اور صورت میں ہندوستان  میں پیش آیا۔ مغل بادشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ 1540 سے لے کر 1555 تک وہ دہلی کے تخت سے محروم رہا۔ اس دوران وہ بھاگ کر ایران پہنچا اور وہاں شاہ تہماسپ سے مدد مانگی۔ ایرانی بادشاہ نے ایک بڑی فوج اور ضروری سامان اس کے حوالے کیا۔ اس طرح ایرانیوں کی مدد سے ہمایوں نے ازہرنو دہلی کے تخت پر قبضہ کیا۔ 15 سال کے وقفہ کے بعد مغل سلطنت دوبارہ دہلی میں قائم ہوئی۔

مگر دوبارہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغل سلطنت کے نظام میں ایران کے سیاسی اور تہذیبی اثرات داخل ہو گئے۔ ایرانی اس وقت آرٹ اور فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے۔ چنانچہ ایران سے آرٹسٹ ، پینٹر، نقاش اور شاعر قسم کے لوگ بڑی تعداد میں ہندوستان آنے لگے۔ ہندوستان کامسلم سماج گہرے طور پر اس سے متاثر ہوا، اور ایرانی تہذیب کے رنگ میں رنگ گیا (Encyclopedia Britannica, Vol. 17, p. 132) ۔

تاریخ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ وہ سبق یہ کہ جب آپ کسی سے مدد لے کر کامیابی حاصل کریں تو وہ کامیابی صرف آپ کی کامیابی نہیں ہو گی بلکہ اس میں اس شخص یا گروہ کا بھی دخل ہو جائے گا جس کی مدد سے آپ نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ ہزار کوشش کے باوجود اپنے آپ کو اس انجام سے نہیں بچا سکتے۔

ایسی حالت میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو کام کیا جائے خود اپنی بنیاد پر کیا جائے۔ زیادہ بڑے کام کا شوق نہ کیا جائے بلکہ چھوٹی سطح پر کام شروع کر کے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ یہی سچی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

حقیقی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ تدریج ہے، چھلانگ نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion