دو دنیاؤں کا فرق

 میں نے اپنی تحریری زندگی شروع کی تو میں کمیونزم کا مخالف بن چکا تھا۔ اسی زمانہ میں میں نے اس کے بارے میں ایک مقالہ لکھا تھا جو ’’ہندستان کی منزل:سوشلزم یا اسلام‘‘ کے نام سے چھپا تھا۔ اس کے بعد میں نے اس موضوع پر زیادہ جامع کتاب لکھی جو اپریل 1959 میں شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا:مارکسزم جس کو تاریخ رد کر چکی ہے۔ اس کے جلد ہی بعد اس موضوع پر میری دوسری کتاب اگست 1959میں شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا:سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ ۔

پچھلے 35سال کے اندر اس موضوع پر میں کم از کم ایک سو مضامین اور کتابیں اردو، عربی اور انگریزی میں شائع کر چکا ہوں۔ ان تمام مضامین اور کتابوں میں ہمیشہ میں نے کمیونزم اور سوشلزم کی مخالفت کی ہے ۔ ایک زمانہ میں بہت سے اسلام پسند سوشلزم کی طرف مائل ہو چکے تھے اور اس کو اسلامی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر میں ہمیشہ اس نظریہ کا مخالف رہا۔

11 جون 1990ء کو نئی دہلی کے روسی سفارت خانہ سے ٹیلیفون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مجھ کو دس روزہ پروگرام کے تحت سوویت روس بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ میں وہاں اسلام اور مسلمانوں کے حالات کو براہ راست دیکھوں، نیز یہ کہ 28 جولائی کے لیے انہوں نے میری سیٹ ریزرو کرا دی ہے۔

سوویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک ’’مخالف‘‘ کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو اس کو سارے عالم پر غالب کیے ہوئے ہے۔ وہ یہی فراخ دلی اور بر داشت ہے۔ مغربی جمہوریت جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے ، وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے۔ وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اس صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔

موجودہ زمانہ کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملہ میں بالکل برعکس ہے ۔ ان کے یہاں صرف اپنے موافق کے لیے جگہ ہے۔ جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے ’’اکابر‘‘ پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نیں۔ موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔

 کم از کم پچھلے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں کوئی اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلافِ رائے کا ماحول ہو ۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجودہی نہیں ، پھر وہاں اعلیٰ درجہ کے انسان کیوں کر پید اہو سکتے ہیں۔

آج اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لیے مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والے اعلیٰ افراد درکار ہیں۔ مگر موجودہ اسلامی اداروں میں اکابر پرستی اور تقلید ِشخصی کا ماحول اتنی گہرائی کے ساتھ چھایا ہوا ہے کہ ان اداروں سے مجتہدانہ اوصاف والی شخصیت کا پیدا ہو نا ممکن نہیں۔ ان اداروں سے کسی اعلیٰ انسان کا ابھرنا ویسا ہی ایک عجوبہ ہو گا جیسا کسی قبرستان سے ایک زندہ انسان کا نکل آنا۔ (سفرنامہ غیرملکی اسفار، جلد 2، روس کا سفر)

مولانا محمد تقی امینی 5مئی 1926کو سبیحہ بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ 21 جنوری 1991 کو علی گڑھ میں ان کی وفات ہوئی۔ مولانا مرحوم کے ساتھ میری زندگی کے کئی عبرت انگیزواقعات وابستہ ہیں ۔ جون 1966 میں جب میں نے مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (لکھنؤ) کو چھوڑ دیا۔

اس وقت مولانا مرحوم مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ناظم دینیات تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھے بغیر بطور خود ہندستان کے ان مسلم اداروں کے نام سفارشی خطوط لکھے جہاں لکھنے پڑھنے کا کام ہوتا تھا۔ مثلاً دار المصنفین، معارف اسلام، ندوۃ المصنفین، وغیرہ۔ مدارس عربیہ سے جو جرائد نکلتے ہیں ان کو بھی خطوط لکھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے کسی ادارہ میں جگہ مل جائے تاکہ میں وہاں رہ کر لکھنے پڑھنے کا کام کر سکوں ۔ مگر تمام کے تمام اداروں نے مجھ کوقبول کرنے سے معذرت ظاہر کی۔

اس سلسلہ میں انہوں نے تقریباً ایک درجن اداروں کے نام خطوط لکھے تھے۔ ان کے جوابات انہوں نے مجھے دکھائے تھے۔ ان جوابات میں میری صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا تھا۔ مگر براہِ راست یا بالواسطہ انداز میں یہ شکایت کی گئی تھی کہ میرا مزاج تنقیدی ہے۔ اور اسی تنقیدی مزاج کی بنا پر ان کے ساتھ میرا نباہ نہ ہو سکے گا۔ (ڈائری، 30 جنوری 1991ء)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion