غلط استدلال
وکیع بن الجراح (197-129ھ) اپنے زمانہ کے ایک بڑے محدث تھے۔ وہ نہایت متقی انسان تھے چنانچہ خلیفہ ہارون الرشید نے ان کو قاضی کا عہدہ پیش کیا تو انہوں نے انکار کردیا اور اپنی تمام عمر حدیث کی جمع و تدین میں گزار دی۔ وہ اپنے وطن کوفہ سے حج کے ارادہ سے مکہ روانہ ہوئے تھے کہ راستہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔
وکیع بن الجراح کے ایک معاصر نے (تعریفی طور پر) ان کے بارے میں کہا کہ میں نے وکیع کودیکھا۔ میں نے ان کے ہاتھ میں کوئی کتاب نہیں دیکھی۔ وہ حدیثوں کے حافظ تھے:رَأَيْتُ وَكِيعًا، وَمَا رَأَيْتُ بِيَدِهِ كِتَابًا قَطُّ، إِنَّمَا هُوَ يَحْفَظُ(التہذیب لا بن حجر، جلد 11 صفحہ 119)۔
گولڈ زیہر نے اس قول کو لے کر لکھا ہے کہ وکیع نے کتاب اور کاغذ چھوڑ رکھا تھا، وہ صرف زبانی طور پر حدیث سنتے اور سناتے تھے۔ گولڈ زیہر کا مقصد اس سے حدیث کی صحت کو مشکوک ثابت کرنا ہے۔ کیوں کہ تحریر کے مقابلہ میں یادداشت بہرحال ایک غیر معتبر ذریعہ ہے۔
مگر گولڈ زیہر کا یہ استدلال اس وقت غلط معلوم ہوتا ہے جب کہ ہم اسی کتاب میں یہ دیکھتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے اپنے شاگردوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا: تمہارےلیے لازم ہے کہ تم وکیع کی کتابوں کو پڑھو:عَلَيْكُمْ بِمُصَنَّفَاتِ وَكِيعٍ (التہذیب لابن حجر، جلد 11، صفحہ 126)۔ اگر ان کی کتابیں نہ ہوتیں تو احمد بن حنبل اس طرح کا مشورہ کیوں دیتے۔ امام وکیع کی کتابوں میں سے چند کتابیں یہ ہیں:
کتاب الزہد
المصنف
التفسیر (الکشف و البیان للثعلبی)
وکیع بن الجراح کے واقعات بتاتے ہیں کہ ان کا حافظہ غیر معمولی طور پر اچھا تھا۔ وہ اگرچہ احادیث کو باقاعدہ لکھتے تھے۔ مگر مجالس میں اکثر حافظہ کی مدد سے احادیث کو بیان کرتے تھے۔ امام وکیع سے متعلق تمام واقعات کو دیکھیے تو مذکورہ قول میں کوئی حرج نظر نہیں آتا ۔ مگر گولڈ زیہر نے بقیہ چیزوں کو چھوڑ کر صرف ایک جزء کو لے لیا تو وہ اس کے لیے اس بات کی دلیل بن گیا کہ حدیث کا موجودہ ذخیرہ مشتبہ ذخیرہ ہے، اس کی صحت پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
