امن کا فائدہ
بھوپال کے محمد ذاکر حسین کے صاحبزادہ محمد زبیر کی عمر ابھی صرف آٹھ سال ہے اور انہوں نے آدھا قرآن حفظ کر لیا ہے۔ میں نے صاحبزادہ سے کہا کہ آپ قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنائیں انہوں نے سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کے پڑھنے کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی پختہ قاری پڑھ رہا ہو۔ ان کو سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کا ایک زندہ معجزہ ہے کہ 8 سال کا ایک بچہ 15 پارہ حفظ کرلے اور اس کو ایک پختہ قاری کی طرح پڑھ کر سنائے معلوم ہوا کہ انہوں نے صرف ڈیڑھ سال میں یہ حفظ کیا ہے۔
مذکورہ بچہ کے استاد حافظ عبدالرقیب صاحب ہیں۔ وہ اپنے بزنس کے سلسلہ میں ہر روز بھوپال سے بیر کھیڑی جاتے ہیں۔ 32 کلو میٹر کا یہ فاصلہ بس کے ذریعہ طے ہوتا ہے۔ بس کے مالک غیر مسلم ہیں مگر جب انہوں نے جانا کہ یہ بچہ اپنے استاد کے ساتھ حفظ قرآن کے لیے روزانہ سفر کرتا ہے تو انہوں نے بچہ کا کرایہ لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ یہ بچہ ہر روز 64 کلو میٹر کا یہ سفر بس کے ذریعہ طے کرتا ہے مگر بس کے مالکان اس کا کرایہ نہیں لیتے۔ یہ قصہ سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کی ایک کرامت ہے۔ (الرسالہ، مارچ 1999)
