نمونۂ انسانیت
سوامی ویو یکا نند (1865-1902) نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ میرا تجربہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب انسانی برابری کی منزل تک قابل لحاظ حد تک پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے ۔ اس لیے میرا یہ قطعی خیال ہے کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر، ویدا نتزم کے نظریات ، خواہ وہ کتنے ہی اچھے اور شاندار ہوں ، عام انسان کے لیے بالکل بے فائدہ ہیں ۔ ہمارے مادر وطن کے لیے دو عظیم نظاموں کا ملاپ، ہندو ازم اور اسلام ۔ ویدانت دماغ اور اسلام جسم — واحد امید ہے:میں اپنے ذہن کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندستان ، انتشار اور افتراق سے نکل کر ویدانت دماغ اور اسلام جسم کے ذریعہ کامیاب اور فتح مند ہو رہا ہے :
My experience is that if ever any religion approached to this equality in an appreciable manner, it is Islam and Islam alone. Therefore I am firmly persuaded that without the help of practical Islam, theories of Vedantism, however fine and wonderful they may be, are entirely valueless to the vast mass of mankind. For our own motherland, a junction of the two great systems, Hindusim and Islam-Vadanta brain and Islam body-is the only hope. I see in my mind's eye the future perfect India rising out of this chaos and strife, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. (Letter of Swami Vivekananda (1986), pp-379-80).
مہاتما گاندھی (1869-1947) کانگر یسی لیڈروں کو یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ وہ خلیفہ ابو بکر اور خلیفہ عمر کی پیروی کریں :
We have to follow the example of Abu Bakr and Umar.
گاندھی جی نے ایک بار اپنے اخبار (ہریجن ) میں لکھا تھا کہ سادگی کا نگریسیوں ہی کا اجارہ نہیں ۔ میں رام چندر اور کرشن کا حوالہ نہیں دیتا ۔ کیوں کہ وہ تاریخی شخصیتیں نہ تھیں ۔ میں مجبور ہوں کہ ابو بکر اور عمر کے نام کا حوالہ دوں ۔ اگرچہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے ۔ مگر انھوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری ۔
Simplicity is not the monopoly of Congressites. I am not going to mention the names of Rama and Krishna because they were not historic personalities. I am compelled to mention the names of Abu Bakr and Umar. Though they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers, (Harijan, July 27, 1937).
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی شخصیتوں نے اسلام کی صورت میں جو تاریخ بنائی ہے، وہ ساری انسانیت کے لیے نمونہ کی تاریخ ہے۔ اسلام نے اُن اوصاف کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی ہیں ۔ جن کو انسانی اوصاف کہا جاتا ہے۔ فرضی قصے کہانیوں کی صورت میں کوئی بھی شخص ایک کتاب لکھ سکتا ہے۔ مگر انسانیت کے نمونہ کے لیے حقیقی کردار کا حوالہ دینا ہو تو اسلامی شخصیتوں کے سوا کسی اور کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس اعتبار سے یہ اسلامی شخصیتیں ساری انسانیت کا مشترک اخلاقی ورثہ ہیں۔ وہ تمام انسانوں کے لیے بہترین اخلاقی نمونہ ہیں یہاں ہم اس بات کی وضاحت کے لیے مختلف پہلوؤں سے چند تاریخی مثالیں نقل کریں گے۔
