کھلی مذمت ضروری

قرآن وحدیث میں اہل ایمان کوجواحکام دیےگئےہیں ان میں سےایک حکم وہ ہے جس کو انکار منکر کہا جاتا ہے۔ یعنی برائی ہورہی ہوتواس کودیکھ کرچپ رہناایک سنگین جرم ہے۔ کسی آدمی کےلیے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ براہ راست طورپر برائی میں شریک نہیں۔ اگر وہ برائی کو دیکھنے کے باوجود چپ رہے تو وہ بالواسطہ طور پر اس کا مجرم قرار پائے گا۔

مثلاًموجودہ زمانہ میں مسلمان جگہ جگہ جہادکےنام پروہ کررہےہیں جس کوساری دنیاکاپریس دہشت گردی کےعنوان سے رپورٹ کرتاہے۔یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ اس معاملہ میں دنیاکےتقریباًتمام مسلمان خداکی نظر میں مجرم ثابت ہورہےہیں۔اس کی وجہ یہ ہےکہ میرے علم کےمطابق،ساری دنیامیں کوئی بھی قابل ذکرمسلمان نہیں جوتشدّدکی اس برائی کو کھلے طور پرکنڈم کرتاہو۔

مسلمانوں کی ایک تعدادوہ ہےجواس متشدّدانہ سرگرمی کوعین اسلامی جہادقراردیتی ہے۔حتیٰ کہ وہ خودکش بمباری (suicide bombing) کو استشہاد (طلب شہادت) کا نام دےکراس کوعین درست بتاتی ہے۔ مسلمانوں کا دوسرا گروہ وہ ہےجومذمت کےالفاظ بولتاہےمگرحقیقت میں وہ مذمت نہیں ہوتی۔مثلاًوہ کہیں گے کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں، اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔مگروہ یہ نہیں کہیں گےکہ فلاں فلاں مقام پرمسلمان جومتشدّدانہ تحریک چلا رہے ہیں وہ دہشت گردی ہےاوروہ اسلام کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں ان کی مذمت ایک خودفریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلمانوں کاایک اورگروہ ہےجوبظاہرنام لےکرمذمت کرتاہےمگراسی کے ساتھ وہ ایسے دفاعی الفاظ بھی بولتا ہے جس سےثابت ہوکہ اس دہشت گردی کی اصل ذمہ داری مسلم دشمنوں کی ہے،نہ کہ خود مسلمانوں کی۔

مذمت کےیہ طریقے یقینی طورپر غیر اسلامی ہیں۔مذمت کاصحیح طریقہ یہ ہےکہ نہ صرف دہشت گردی کوخلاف اسلام بتایا جائے بلکہ مختلف مقامات پرجہادکےنام پر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس کو کھلے لفظوں میں رد کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ جہادنہیں ہے بلکہ فسادہے۔مسلمانوں کےلکھنےاوربولنےوالےطبقہ کی یہی مجرمانہ خاموشی ہےجس کی بنا پریہ ہورہاہےکہ جہادکےنام پرہونےوالا تشدّدکسی طرح ختم نہیں ہوتا۔اس مجرمانہ تشدّد میں خودساختہ مجاہدین اگربراہ راست شریک ہیں توبقیہ مسلمان بالواسطہ طورپراس میں شریک ہیں۔اوراسلامی نقطہ نظرسے،براہ راست شریک اوربالواسطہ شرکت کے درمیان صرف ڈگری کافرق ہے،ان کےدرمیان نوعیت کاکوئی فرق نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion