تربیتِ شعور
مسٹر خالد جمال ملاقات کے لیے آئے۔ وہ حیدرآباد میں رہتے ہیں ۔اس وقت وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کارپوریٹ کمیونی کیشنز کے منیجر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میری ابتدائی تعلیم کلکتہ کے ایک اردو اسکول میں ہوئی۔ میرے باپ بھی معمولی حیثیت کے آدمی تھے۔ بظاہر میرے لیے کسی بڑی ترقی کے مواقع نہیں تھے۔ مگر میں اپنی طالب علمی کے زمانہ سے ہی الرسالہ پڑھتا تھا۔ اس سے میرے اندر ایک نئی سوچ اور نئی ہمت پیدا ہورہی تھی۔ پھر میں نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایج آف کمیونی کیشن ہے۔ اس کو پڑھ کر میرے اندر یہ عزم جاگاکہ مجھے کمیونی کیشن کا کورس کرنا چاہیے۔ چنانچہ اردو اسکول سے فراغت کے بعد میں نے کمیونی کیشن کی اسٹڈی شروع کردی۔ یہاں تک کہ آج میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کمیونی کیشن کے شعبہ کا منیجرہوں۔
اکثر لوگ اردو اسکول اور عربی مدرسہ کے خلاف لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قوم کوناکارہ بناتا ہے۔ مگر مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ یہ رائے درست نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ اردو اسکول یا عربی کے ساتھ ’’الرسالہ‘‘ جیسے کسی انفارمل تربیتی کورس کا اضافہ کردیا جائے۔ اس کے بعد ہر طالب علم اس طرح آگے بڑھ جائے گا جس طرح خالد جمال صاحب آگے بڑھ گئے۔(ڈائری، یکم دسمبر1995)
