پُرامن شہری
حدیث میں آیاکہ پیغمبراسلامﷺنےمومن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایاکہ: المؤمِنُ مَنْ أمِنَهُ النَّاسُ على دِمائِهِمْ وأمْوالِهِم (سنن الترمذی، حدیث نمبر2815)۔ یعنی، مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنےخون اوراپنےمال کےمعاملے میں مامون ہوں۔
کسی سماج میں رہنےکےدوطریقےہیں۔ایک یہ کہ آدمی لوگوں کےدرمیان امن کے ساتھ رہے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہےکہ وہ دوسروں سےلڑائی جھگڑاکرتارہے۔اس حدیث کےمطابق،ایمانی طریقہ یہ ہےکہ آدمی لوگوں کےدرمیان پُرامن شہری بن کر رہے۔ دوسروں کی جان اورمال اورعزت کےلیے وہ مسئلہ نہ بنے۔وہ کسی حال میں دوسروں کے خلاف تشدّد کاطریقہ اختیارنہ کرے۔
زندگی کا وہ طریقہ کیا ہے جس میں سماج کےافرادایک دوسرےکی زیادتیوں سےمحفوظ ہوں۔وہ طریقہ یہ ہےکہ شکایت کےباوجودآدمی اپنی معتدل روش کو برقرار رکھے۔ دوسروں سے شکایت کووہ اپنے سینے میں دفن کردے، وہ اپنے سینے کی آگ کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے سے بچے۔ اسی قسم کا سماج وہ سماج ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے مامون رہ کر زندگی گزاریں۔پُر امن سماج معیاری انسانی سماج ہے۔ اس کے برعکس، جس سماج میں تشدّد ہو وہ حیوانی سماج ہے، نہ کہ انسانی سماج۔امن پسندی ایک اعلیٰ اخلاق ہے۔اس کےمقابلے میں تشدّدکا مطلب یہ ہےکہ آدمی انسانی اخلاق کی سطح سےگرکر حیوانی اخلاق کی سطح پرآگیاہو۔
