صفحۂ عبرت

ریاض کے عربی ماہنامہ الفیصل (صفر1414ھ) میں کرسٹوفر کولمبس (1506-1451ء) کے بارے میں ایک تحقیقی مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے: لماذا خطا کولمبس(کولمبس نے کیوں غلطی کی؟) اس کے لکھنے والے دکتور مظفر صلاح الدین شعبان ہیں۔ اس مضمون کا ایک پیراگراف یہ ہے:

فِي الفَتْرَةِ المُمتَدَّةِ مِنَ القَرْنِ الثَّامِنِ وَحَتَّى القَرْنِ الثَّانِي عَشَرَ كَانَتِ اللُّغَةُ العَرَبِيَّةُ هِيَ لُغَةَ العُلُومِ لِغَالِبِيَّةِ الجِنْسِ البَشَرِيِّ. وَلِهَذَا السَّبَبِ فَقَدِ اعْتَبَرَ كُولُمْبُسُ اللُّغَةَ العَرَبِيَّةَ أُمَّ جَمِيعِ اللُّغَاتِ. وَهَذَا يُفَسِّرُ سَبَبَ اصْطِحَابِهِ مَعَهُ فِي رِحْلَتِهِ الأُولَى الإِسْبَانِيَّ لُوِيس دِي تُور، الَّذِي يُتْقِنُ العَرَبِيَّةَ مُتَرْجِمًا خَاصًّالَهُ (صفحہ30)۔ یعنی، آٹھویں صدی سے لے کر بارھویں صدی عیسوی تک کے زمانہ میں عربی زبان ہی دنیا کے بیشتر لوگوں کی علمی زبان تھی۔ اور اسی بنا پر کولمبس نے عربی زبان کو تمام زبانوں کی ماں قرار دیا اور اسی سے اس کا سبب بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیوں اپنے پہلے سفر میں ایک اسپینی لوئی دی تور کو خصوصی مترجم کے طور پر اپنے ساتھ لے گیا جو کہ عربی زبان سے بخوبی واقف تھا۔

اس واقعہ کا ذکر انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس طرح آیا ہے— کولمبس چوں کہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جہاں جا رہا ہے وہاں اس کو وحشی لوگ ملیں گے یا مہذبی لوگ، اس نے اپنے جہازوں پر سستے اور معمولی سامان لاد لیے تاکہ وہ وہاں کے قدیم باشندوں سے ان کا سونا حاصل کر سکے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے ایک شخص لوئی دی تور کو اپنے جہاز میں بٹھایا جو کہ ایک یہودی تھا اور وہ عبرانی اور کلدانی کے علاوہ کچھ عربی زبان بھی جانتا تھا، اس ضرورت کے پیش نظر کہ وہاں’’عظیم خان‘‘ سے اس کی ملاقات پیش آ جائے:

As Columbus did not know whether he was to come across new savages or old civilizations, he loaded his ships with cheap merchandise to relieve aboriginals of their gold, but also took on board one Luis de Torres__"who had been a jew and knew Hebrew and Chaldeand a little Arabic"___in case he met the "grand khan’’. (Encyclopedia Britannica, Vol. 4, p. 938)

یہ اس دور کی بات ہے جو پانچ سو سال پہلے دنیا میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت عربی زبان کا وہی مقام تھا جو آج انگریزی زبان کا مقام ہے۔ اس وقت عربوں کو وہی درجہ حاصل تھا جو آج اہل مغرب کو حاصل ہے۔ اس وقت عالم واقعات کی کنجی مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی، جس طرح آج وہ غیر مسلموں کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔

 یہ تبدیلی کسی سازش کی بنا پر پیش نہیں آئی۔ بلکہ تمام تر فطرت کے قانون کے تحت پیش آئی۔ اس دنیا کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا قانون یہ ہے کہ جس کو جو کچھ ملے گا، استعداد کی بنا پر ملے گا، اور جس سے جو کچھ چھنے گا بے استعدادی کی بنا پر چھن جائے گا۔ اس دنیا میں جو لوگ محروم رہ جائیں انہیں دوسروں کی سازش یا تعدی کا انکشاف کرنے کے بجائے اپنی بےاستعدادی کو ختم کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اگر وہ کچھ پائیں گے تو اپنی بے استعدادی کو ختم کر کے ہی پائیں گے۔ شکایت اور احتجاج کی بنیاد پر یہاں انہیں کچھ ملنے والا نہیں۔

موجودہ دنیا کو اس کے پیدا کرنے والے نے کسی خاص نسل یا کسی خاص گروہ کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ بلکہ تمام انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہاں کسی ایک انسان کا جو حق ہے، وہی دوسرے تمام انسانوں کا حق بھی ہے۔ یہاں کوئی چیز صرف وہ لوگ پاتے ہیں، جو فی الواقع اس کے حق دار ہوں۔

حق دار کون ہے۔ قرآن کے مطابق، حق دار وہ ہے جس میں نفع بخشی کی صلاحیت ہو۔ قرآن (13:17)میں فطرت کا ایک مستقل اصول یہ بتایا گیا ہے کہ جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے — وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ:

and that which is for the good of mankind remains on the earth.

یہی اس دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ابدی قانون ہے۔ یہاں قیام و استحکام صرف اس کو ملتا ہے جو نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو دوسروں کے لیے مفید ثابت ہو۔ کسی قوم کی زبان ہو یا اس کی حکومت، کسی قوم کا کلچر ہو یا اس کی اقتصادیات، کسی بھی چیز کو صرف اس وقت تک زمین کے اوپر برتری اور بالادستی حاصل ہوگی، جب کہ اس میں دوسروں کو نفع پہنچانے کی صلاحیت ہو۔ نفع بخشی کی صلاحیت کھوتے ہی وہ اپنا غالب مقام بھی کھو دے گی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion