زبان پر قابو
ٹامس فلر (1208-1661) ایک انگریز مصنف گزرا ہے۔ اس کا قول ہے ’’پرندے اپنے پاؤں کے باعث جال میں پھنستے ہیں اور انسان اپنی زبان کے باعث ‘‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ سماجی زندگی میں اکثر مصیبتوں کی وجہ آدمی کی زبان ہوتی ہے۔ زبان کی بے احتیاطی گھر کے اندر اور گھر کے باہر آدمی کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ آدمی اگر زبان کو قابومیں رکھے یاکم از کم ایسا کرے کہ نازک مواقع پر چپ رہے تو یقینی طور پر وہ بہت سی ناخوش گوار چیزوں سے بچ سکتا ہے۔ تمام مصلحین اور مفکرین نے زبان کے محتاط استعمال پر زور دیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں چند اقوال نقل کیے جاتے ہیں
- بری بات پر تم بھلی بات کے ذریعہ زیادہ آسانی کے ساتھ فتح پا سکتے ہو(گوتم بدھ)۔
- تلوار کے وار کی نسبت زبان کا وار زیادہ گہرا ہوتا ہے (ہندی کہاوت)۔ خدا سے ڈرنے والے کی زبان گونگی ہو جاتی ہے (فضيل بن عياض)۔ زبان ہم کو اس لیے دی گئی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے خوش گوار باتیں کریں، نہ کہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچائیں (گوتم بدھ)۔
- بیوقوف آدمی کا دل منھ میں ہوتا ہے اور عقل مند آدمی کی زبان دل میں (شیکسپیر)۔
- خالی دماغ اور قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبان ایک دوسرے کے قریبی دوست ہیں(اویڈن)۔
- پیروں کی لغزش کے بعد سنبھلا جا سکتا ہے مگر زبان کی لغزش کے بعد سنبھلنا ممکن نہیں (فرینکلن)۔
- جاہل کی زبان اس کی مالک ہوتی ہے اور عقل مند کی زبان اس کی خادم (عربی کہا وت)۔
- دشمن بھی اچھی بات کہے تو اس کو قبول کرنے میں تامل نہ کرو(سوامی شبدانند)۔
- جو شخص ناپسندیدہ بات کہے گا وہ ناپسندیدہ بات سنے گا(عربی کہادت)۔
- بات کو دیر تک سوچو پھر اس کو منہ سے نکالو تم کبھی شرمندہ نہ ہوگے (افلاطون)۔
- اگر آدمی کے پاس اچھے بول ہوں تو وہ اچھی صورت نہ ہونے کے باوجود لوگوں کو اچھا معلوم ہوگا۔ (سویٹ نارڈین)
بولنے کی طاقت جو انسان کو حاصل ہے وہ بڑی انوکھی طاقت ہے۔ ساری معلوم کائنات میں کسی کو یہ طاقت حاصل نہیں۔ دو گونگے آدمی اگر باہم ملیں توان کا ملنا کس قدر بےمعنی ہوتا ہے، اس کا اندازہ ہر اس شخص کو ہے جس نے کبھی دو گونگوں کو ملتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر جب دو بولنے والے آدمی ملتے ہیں تو ان کا ملنا حد درجہ بامعنی بن جاتا ہے ۔ اس وقت زبان ہی وہ چیز ہوتی ہے جس سے دونوں اپنے آپ کو ایک دوسرے سے قریب کرتے ہیں۔ دو ملنے والے جب سنجیدگی اور مٹھاس کے ساتھ باتیں کریں تو اس سے زیادہ حسین منظر اس زمین پر کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، جب دود آدمی تلخ کلامی پر اتر آئیں تو وہ اتنا زیادہ برا منظر ہوتا ہے کہ خود بولنے والے اگر اپنی اس وقت کی تصویر دیکھ لیں تو اپنی اس حرکت پر نفرت کرنےلگیں۔
نادان آدمی خیال کرتا ہے کہ بھلی بات بولنے پر لوگ اس کو کمزور سمجھیں گے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی بری بات سن کر اپنے کو تھامتا ہے اور اس کے جواب میں اپنی زبان سے بھلی بات نکالتا ہے تو وہ اپنی غیر معمولی طاقت کا ثبوت دیتا ہے، وہ اپنے اس پُر اعتماد مظاہرہ سے اپنے دشمن کو مرعوب کر لیتا ہے۔ ایسے ہر واقعہ کے بعد دشمن کا دل مجبور ہوتا ہے کہ اپنے کو چھوٹا اور اپنے حریف کو بڑا سمجھے۔ بھلی بات دشمن کے مقابلہ میں ایک قیمتی ہتھیار ہے ، ایسا ہتھیار جوآدمی کے پاس ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس ہتھیار کو جانیں اور اس کو استعمال کریں۔
جو شخص مخالف کی بری بات سے برا اثر نہیں لیتا وہ اپنے اس مزاج سے ایک بہت بڑا اثاثہ اپنے لیے حاصل کرتا ہے، یہ کہ وہ مخالف کی بات کو بھی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سن سکے اور اگر اس کے اندر کوئی صداقت ہے تو اس کو پائے ۔ تاریخ کی اکثر نا دانیاں صرف اس بات کا نتیجہ تھیں کہ آدمی نے اپنے مخالف کی بات کو کھلے ذہن سے نہیں سنا۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو بری بات سے اثر نہ لینا بجائے خود حکمت کا ایک خزانہ ہے۔ اور آدمی کی بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ اپنےآپ کو اس مفت کے خزانے سے محروم نہ کرے ۔
