غیر ضروری ٹکراؤ

مسٹرالبرٹ ہورانی (Albert Hourani, 1915-1993) مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی مشہور کتاب ہے جس کا نام ہے— عرب قوموں کی ایک تاریخ:

A History of the Arab Peoples

اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ عرب ملکوں کے لیے بہترین سیاسی پالیسی سیکولرزم ہے۔ ان کے الفاظ میں مذہب اور سیاسی زندگی کی علیحدگی موجودہ دنیا میں کامیاب قومی زندگی کی واحد شرط ہے:

The separation of religion from political life seemed to be a condition of successful national life in the modern world.

موجودہ زمانے میں روشن خیال طبقہ کا یہ کہنا ہے کہ مذہب کونجی دائرے میں محدود رہنا چاہیے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی پر امن سماج کی تعمیر کے لیے     لازمی شرط ہے۔ اس کے جواب میں موجودہ زمانے کے اسلام پسند شدید ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب اور سیاست دونوں لازم اور ملزوم ہیں۔ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ غیر ضروری بحث ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کی وجہ سے پیدا ہوتی  ہے۔ یہ لوگ صرف دو باتوں کے درمیان سوچ پاتے ہیں۔ یا مذہب مع سیاست یا مذہب بغیر سیاست۔ اسی لیے وہ ایک دوسرے کو اپنا مخالف سمجھ کر ان سے لڑنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہاں ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے۔ اور وہ تدریج سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی رائج الوقت نظام عملی طور پر مذہب کو جس دائرے میں کام کا موقع دے رہا ہو اس دائرے کو بلابحث قبول کر لینا اور اس کو نقطۂ آغا ز سمجھ کر اپنا کام فکری انداز میں شروع کر دینا۔

اس نزاع کا آسان حل یہ ہے کہ جس چیز کو سیکولر طبقہ اصولی تقسیم کے طور پر پیش کر رہاہے اس کو اسلامی طبقہ عملی تقسیم کے طور پر مان لے۔ اس عملی بندوبست کے با وجود اسلامی طبقہ اپنے فکر کی پر امن تبلیغ بدستور جاری رکھ سکتا ہے جس کی موجودہ زمانے میں اسے پوری آزادی حاصل ہے ۔ ایسی حالت میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion