18اپریل 1985
دین پر عمل کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ نے گھر میں جو دین کے نام پرجو چیز ہوتے ہوئے پایا، اس کو دین سمجھ کر اپنالیا۔ اس کے مقابلے میں دین پر عمل کرنے کی اعلیٰ صورت یہ ہے کہ آپ نے دین کے معاملے میں صرف اپنے گھر اور مسلم معاشرے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ آپ نے تدبر و تفکر اور گہرے مطالعہ کے ذریعے دین اسلام کو دریافت کے درجے میں حاصل کیا، اپنے ارادہ و اختیار سے خدا کی معرفت حاصل کی۔ ایک متلاشیٔ حق نے مسلم قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا :
They are Muslims by chance, but we are Muslims by choice.
یہ فرق کوئی معمولی فرق نہیں۔ یہ فرق آدمی کے کردار میں زبردست فرق پیدا کرتا ہے۔ جن لوگوں کو اسلام محض پیدائشی طورپر مل جائے، ان کے اندر کوئی اسلامی حرارت نہیں ہوتی۔ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کے خلاف جھوٹے ہنگامے کرسکتے ہیں، مگر خود ان کے اپنے اندر اسلام ایک انقلاب کے طورپر داخل نہیں ہوتا۔
مگر جو شخص اسلام کو خود اپنے انتخاب سے اختیار کرے، اس کے ليے اسلام ایک ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ اس کی اندرونی شخصیت میں بھونچال کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسے ہی افراد دراصل وہ لوگ ہیں، جو تاریخ بناتے ہیں۔